حضرت میرا سوال یہ ہے کہ میں اپنی بیوی کو طلاق دینے کے لئے اسٹامپ پیپر والوں کے پاس گیا , انہوں نے اپنی طرف سے طلاقِ ثلاثہ اور بہت کچھ لکھا میں نے جلدی میں پڑھ کر دستخط کر دیا بعد میں مہینہ بعد پتہ لگا جب خود پڑھا اس میں طلاق ثلاثہ لکھا تھا جب کہ میں نے یہی سنا ہے کہ جب تک تین (3) طلاق نہیں ہوتی تو دوبارہ رجوع کیا جا سکتا ہے مفتی طارق مسعود کا بیان سنتا ہوں , اب میرے لیے کیا حکم ہے میں رجوع کر سکتا ہوں دوبارہ ؟ جب کہ میں نے ایک طلاق کی نیت سے طلاق دی ہے کہ چلو حالات صحیح ہو جائیں تو دوبارہ رجوع کر لونگا میں نے ایک مفتی صاحب سے معلوم کیا انہوں نے کہا یہ مسئلہ جامعہ بنوریہ میں جمع کروادیں ۔
جب سائل نے اسٹامپ پیپر لکھوا کر اسے پڑھا اور پڑھنے کے بعد اس پر دستخط کر دیے تو اس سے اس کی بیوی پر طلاق نامہ میں درج تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے اگرچہ سائل کی نیت ایک طلاق ہی ہو لہذا اب رجوع نہیں ہو سکتا اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہو سکتا، جہاں تک غور سے نہ پڑھنے کی بات ہے تو وہ سائل کی اپنی کوتاہی اور غفلت ہے جس سے وقوعِ طلاق متاثر نہیں ہوگا۔
کما فی ردالمحتار: (قوله كتب الطلاق إلخ) قال في الهندية: الكتابة على نوعين: مرسومة وغير مرسومة، ونعني بالمرسومة أن يكون مصدرا و معنونا مثل ما يكتب إلى الغائب. وغير المرسومة أن لا يكون مصدرا ومعنونا، و هو على وجهين: مستبينة و غير مستبينة ، فالمستبينة ما يكتب على الصحيفة و الحائط و الأرض على وجه يمكن فهمه و قراءته. و غير المستبينة ما يكتب على الهواء و الماء و شيء لا يمكنه فهمه و قراءته. ففي غير المستبينة لا يقع الطلاق وإن نوى، وإن كانت مستبينة لكنها غير مرسومة إن نوى الطلاق و إلا لا، وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو ثم المرسومة لا تخلو إما أن أرسل الطلاق بأن كتب: أما بعد فأنت طالق، فكما كتب هذا يقع الطلاق وتلزمها العدة من وقت الكتابة. اھ(3/246)
حنفی کا تین طلاق دینے کے بعد غیر مقلدین کے فتوی پر عمل کرنے پر اصرارکرنا
یونیکوڈ حلالہ اور طلاق مغلظہ 0