السلام علیکم! شوہر اگر اس طرح طلاق دے کہ میں نے تجھے آزاد کیا , پر ساتھ ہی تین طلاق کے الفاظ بولے , تو طلاق ہو گئی ؟
شوہر نے اگر بیوی کو مذکور الفاظ (میں نے تجھے آزاد کیا) کے بعد تین طلاق کے الفاظ بھی کہہ دیے تو اس سے اسکی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو جائیگی اب رجوع نہیں ہو سکتا اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر دوبارہ با ہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہو سکتا جبکہ عورت ایامِ عدت کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگی۔
كما في التنزيل العزيز :فإن طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ (:البقرة230 )
وفي صحيح البخاري :عن ابن شهاب، قال: أخبرني عروة بن الزبير، أن عائشة. أخبرته أن امرأة رفاعة القرظي جاءت إلى رسول الله ، فقالت: يا رسول الله. إن رفاعة طلقني فبت طلاقي، وإني نكحت بعده عبد الرحمن بن الزبير القرظي. وإنما معه مثل الهدبة، قال رسول الله : لعلك تريدين أن ترجعي إلى رفاعة ؟لا. حتى يذوق عسيلتك وتذوقي عسيلته (43/7)
وفي الھداية: وطلاق البدعة أن يطلقها ثلاثا .فإذا فعل ذلك وقع الطلاق وكان عاصيا (221/1)
وفي الدر المختار: في طهر واحد (لا رجعة فيه، أو واحدة في طهر وطئت فيه، أو) واحدة في (حيض موطوءة) (والبدعي ثلاث متفرقة أو ثنتان بمرة أو مرتين)اھ ( 233/3) ۔
حنفی کا تین طلاق دینے کے بعد غیر مقلدین کے فتوی پر عمل کرنے پر اصرارکرنا
یونیکوڈ حلالہ اور طلاق مغلظہ 0