کسی پلاٹ یا زمین بیچنے میں ایجنٹ مالک کے پلاٹ یا زمین کی مقرر کردہ ریٹ سے اوپر اپنے لئے مارجن رکھ سکتا ہے، مالک کی رضامندی سے، مطلب مالک اگر زمین کی قیمت 70 ہزار روپے فی کنال مقرر کردے، اور ساتھ میں کہہ دے کہ میں 10، 15 ہزار کی کمی بیشی کرسکتا ہوں، اور آپ اس سے کہیں کہ آپ مجھے کمیشن نہ دیں، میرے لئے فی پلاٹ میں 10 ہزار کا مارجن رکھ لے، اور وہ راضی ہوجائے، کیا شرعی لحاظ سے سے یہ ٹھیک ہے؟
خرید وفروخت کے معاملات میں بائع اور مشتری کے مابین واسطہ بننے والے کو اصطلاح فقہ میں سمسار یا دلال کہا جاتا ہے، ضرورت اور کثرت تعامل کی وجہ سے فقہاء نے دلال کی اجرت کو (فیصد یا رقم کے حساب سے) جائز قرار دیا ہے، لہذا ایجنٹ کےلئے مالکِ پلاٹ سے فی پلاٹ دس ہزار روپے بطور اجرت مقرر کرنا جس پر مالکِ پلاٹ بھی راضی ہو جائز اور درست ہے، اس میں شرعاً کوئی قباحت نہیں، لیکن سائل کی اجرت طے کئے بغیر فقط پلاٹ کی طے شدہ قیمت سے اضافی رقم سائل کی اجرت قرار دینا درست نہیں، جس سے اجتناب لازم ہے۔
کما فی الدر الختار: وأما الدلال فإن باع العين بنفسه بإذن ربها فأجرته على البائع وإن سعى بينهما وباع المالك بنفسه يعتبر العرف وتمامه في شرح الوهبانية الخ (ج4 صـ560 ط: دار الفکر)۔
وفی رد المحتار: تحت (قوله: يعتبر العرف) فتجب الدلالة على البائع أو المشتري أو عليهما بحسب العرف جامع الفصولين الخ (ج4 صـ560 ط: دار الفکر)۔
وفیہ ایضاً: إجارة السمسار والمنادي والحمامي والصكاك وما لا يقدر فيه الوقت ولا العمل تجوز لما كان للناس به حاجة ويطيب الأجر المأخوذ لو قدر أجر المثل الخ (ج6 صـ47 ط: دار الفکر)۔
کمپنی کی طرف سےجہاز کے ٹکٹ کی مد میں ملنے والی رقم بچا کر ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ اجرت و کرایہ داری 0