میں نے اپنی بیوی کو مؤرخہ 2 جون 2021 میں طلاق کا پہلا نوٹس بھیجا , اسکے بعد 30 جون 2021 میں دوسرا نوٹس بھیجا , جبکہ اب ساتواں ماہ ہے اور میں نے تیسرانوٹس نہیں بھیجاہے , میں اپنی بیوی کے ساتھ رہنا چاہتا ہوں براہِ کرم آگاہ فرمائیں کہ بمطابق شریعت کیا طریقہ ہے کہ میں اپنی بیوی کو واپس گھر لاسکوں ؟
نوٹ: سائل سے فون پر معلوم ہوا کہ پہلے اور دوسرے نوٹس میں طلاق کے الفاظ بالترتیب درجِ ذیل ہیں (1) میں پہلی طلاق دیتا ہوں(2) میں دوسری طلاق دیتا ہوں
سائل نے پہلی طلاق کا نوٹس بھیجنے کے اٹھائیس دن بعد جب دوسری طلاق کا نوٹس بھیجا تو اس سے سائل کی بیوی پر دو رجعی طلاقیں واقع ہوچکی ہیں ، چنانچہ اگر سائل نے دورانِ عدت تین ماہواریاں گزرنے تک زبانی طور پر یا عملاً میاں بیوی والے تعلقات قائم کر کے یا شہوت کیساتھ چھو کر رجوع نہ کیا ہو اور عدت گزرچکی ہو ، تو دونوں کا نکاح ختم ہوچکا ہے اور دونوں ایک دوسرے کیلئے اجنبی بن گئے ہیں ، اور بیوی دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے ، تاہم اگر دونوں دوبارہ ساتھ رہنا چاہتے ہوں تو شرعی گواہان کی موجودگی میں نئے حق مہر کے تقرر کے ساتھ باقاعدہ ایجاب و قبول کر کے تجدیدِ نکاح لازم ہو گا، البتہ آئندہ سائل کے پاس فقط ایک طلاق کا اختیار باقی ہو گا، اس لئے آئندہ طلاق کےمعاملہ میں خوب احتیاط لازم ہے۔
کمافي التنزيل العزيز: الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ)
(البقرہ :229)۔
وفی الھدایة: فالصريح قوله أنت طالق ومطلقة وطلقتك فهذا يقع به الطلاق الرجعي " لأن هذه الألفاظ تستعمل في الطلاق ولا تستعمل في غيره فكان صريحا وأنه يعقب الرجعة بالنص " ولا يفتقر إلى النية " لأنه صريح فيه لغلبة الاستعمال " وكذا إذا نوى الإبانة " لأنه قصد تنجيز ما علقه الشرع بانقضاء العدة فيرد عليه. اھ (1/225)
پشتو زبان میں بیوی کو "زمانہ خلاصہ دہ " یا" زمانہ پاتے دہ "کہنے سے طلاق واقع ہوگی؟
یونیکوڈ رجوع طلاق 1