السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
مفتی صاحب! میری بیٹی حنا اپنے گھر سے بھاگ گئی ہے ،اور اس نے ایک پاکستانی عیسائی سہیل جوزف نامی شخص سے شادی کر لی ہے ، اس کا فر نے اس کا اسلام کے خلاف برین واش کیا ،جس کے نتیجے میں اس نے اسلام چھوڑ کر عیسائیت اختیار کر لی ہے ، ہم سید اولیاء فیملی سے ہیں ، اس نے ہمارے پورے خاندان کے لئے بہت ذلت اور رسوائی لائی ہے، میری دو اور بیٹیاں ہیں، اور میں اسے اس حرام اور زنا کو جاری رکھنے نہیں دے سکتا، اور اس بات کو ممکن بناؤں گا کہ اس کو اور اس شخص کو سزادی جائے، اور سب کے سامنے ایک مثال قائم ہو پورے سید خاندان کی لڑکیوں کے لئے ، ہم انہیں موقع دینا چاہتے تھے کہ وہ معاملات ٹھیک کر سکیں، اس لئے ہم نے ان سے یہ بھی کہا کہ ہم ان کارشتہ قبول کر لیں گے ،اور دوبارہ ان کا نکاح کر لیں گے، اگر وہ اسلام قبول کر کے نجات کے راستے پر واپس آگئے، لیکن دونوں نے بڑی بے شرمی سے اسلام قبول کرنے سے انکا ر کر دیا، اور اس کے بجائے وہ مجھے بتاتے ہیں کہ ہمارا صالح خاندان ہے ،جو کم ہو گیا ہے، اور یہ کہ نجات کا راستہ صرف یسوع مسیح کے ذریعے ہے، اور وہ اپنی حرام شادی کو جاری رکھے ہوئے ہیں، میں اور خاندان کے تمام بزرگ بے چین راتیں گزار رہے ہیں، اور ہم اس وقت تک سکون سے نہیں رہ سکتے، جب تک کہ اسے ان کے اعمال کی سزا نہ ملے، میں قرآن وحدیث کے حوالہ جات کی روشنی میں جاننا چاہتا ہوں کہ مرتد / ارتداد کی سزا کیا ہے، اور اس حرام کاری کے بارے میں میں نے ایک اور مولانا سے بھی مشورہ کیا ( جو مفتی نہیں ہیں اور فتویٰ نہیں دے سکتے ) تو انہوں نے صرف یہ حدیث مجھ سے شیئر کی ہے سنن نسائی حدیث نمبر "4065 حضرت علی نے کچھ لوگوں کو جلایا تھا ،جو اسلام سے مرتد ہو گئے تھے، یہ روایت ابن عباس رضی اللہ عنہ تک پہنچتی ہے وہ فرماتے ہیں کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس سے اپنا مذہب بدل دیا اسے قتل کر دو، میں قرآن وحدیث کی روشنی میں آپ کی ماہرانہ رائے جاننا چاہتا ہوں، برائے کرم اس معاملے میں اپنا مہر شدہ فتوی جاری کریں ،اور مجھے بتائیں کہ ان دونوں کافروں کی کیا سزا ہونی چاہیئے ؟ ہمارا خاندان اس بات کا انتظار نہیں کر سکتا کہ جنا اور سہیل دونوں کو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف گناہ کرنے کی سزا ملے ، السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ۔
واضح ہو کہ اگر کوئی مسلمان العیاذ باللہ " دینِ اسلام سے نکل کر مرتد ہو جائے ،تو مرتد شخص اگر مرد ہو تو اس کے متعلق حکم یہ ہے کہ تین دن تک اسے مہلت دی جائے، اور اس دوران اس کے اسلام کے متعلق شکوک و شبہات دور کیے جائیں، اگر اس کے شکوک و شبہات دور ہو جائیں، اور دوبارہ اسلام قبول کرلے ،تو اس کے ساتھ دیگر مسلمانوں کی طرح سلوک ہو گا، لیکن اگر شکوک و شبہات دور کرنے کے باوجود وہ اسلام میں واپس داخل نہ ہو تو شرعاً ایسے مر تدمرد کی سزا قتل ہے، البتہ اگر دین اسلام سے پھرنے اور ارتداد اختیار کرنے والی عورت ہو تو اس کا حکم یہ ہے کہ اس کے بھی اسلام کے متعلق شکوک و شبہات دور کیے جائیں، اگر وہ اسلام قبول کر لیتی ہےتو بہتر، بصورتِ دیگر اسے تاحیات قید میں رکھا جائے، اوراس پر وقتا فوقتاً اسلام پیش کیا جائے گا حتی کہ وہ توبہ کر کے مسلمان ہو جائے، تو اسے رہا کر دیا جائے گا، تاہم دونوں صورتوں میں سزا نافذ کرنے کا حق عوام کو نہیں بلکہ اسلامی مملکت کو ہے، لہذا سائل کی بیٹی کا شادی کے خاطر دینِ حق کو چھوڑ کر عیسائیت کو اختیار کرنا بہت بڑی محرومی اور خسارے کی بات ہے، سائل اور خاندان کے دیگر افراد کو چاہیئے کہ اسے سمجھا کر اسلام کی طرف لانے کی کوشش کریں، لیکن اگر وہ سمجھانے کے باوجود اسلام کی طرف نہیں آتی ،تو سائل یا خاندان کے دیگر افراد کے لئے از خود اسے جلانے یا قتل کرنے کا اختیار حاصل نہیں، بلکہ ایسی صورت میں اس کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جاسکتی ہے۔
كما في قوله تعالى: ﴿إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَسَادًا أَنْ يُقَتَّلُوا أَوْ يُصَلَّبُوا أَوْ تُقَطَّعَ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُمْ مِنْ خِلَافٍ أَوْ يُنْفَوْا مِنَ الْأَرْضِ ذَلِكَ لَهُمْ خِزْيٌ فِي الدُّنْيَا وَلَهُمْ فِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمٌ (33) إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا مِنْ قَبْلِ أَنْ تَقْدِرُوا عَلَيْهِمْ فَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ﴾ [المائدة: 33، 34]۔
و في الفتاوى الهندية: المرتد عرفا هو الراجع عن دين الإسلام كذا في النهر الفائق وركن الردة إجراء كلمة الكفر على اللسان بعد وجود الإيمان (إلی قوله) إذا ارتد المسلم عن الإسلام والعياذ بالله عرض عليه الإسلام فإن كانت له شبهة أبداها كشفت إلا أن العرض على ما قالوا غير واجب بل مستحب كذا في فتح القدير ويحبس ثلاثة أيام فإن أسلم وإلا قتل هذا إذا استمهل فأما إذا لم يستمهل قتل من ساعته ولا فرق في ذلك بين الحر والعبد كذا في السراج الوهاج (2/ 253)۔
و في البحر الرائق شرح كنز الدقائق: [ولا تقتل المرتدة بل تحبس حتى تسلم] (قوله ولا تقتل المرتدة بل تحبس حتى تسلم) لنهيه - صلى الله عليه وسلم - عن قتل النساء ولأن الأصل تأخير الأجزية إلى دار الآخرة إذ تعجيلها يخل بمعنى الابتلاء وإنما عدل عنه دفعا لشر ناجز وهو الحراب ولا يتوجه ذلك من النساء لعدم صلاحية البنية بخلاف الرجال فصارت كالمرتدة الأصلية أطلقها فشمل الحرة والأمة ويستثنى منه المرتدة بالسحر لما في المحيط والساحرة تقتل إذا كانت تعتقد أنها هي الخالقة لذلك لتصير مرتدة وإن كانت المرتدة لا تقتل لما جاء من الأثر من أن عمر - رضي الله عنه -اھ (5/ 139)۔