میں نے اپنی بیوی کو لاعلمی کی وجہ سے زبانی طلاق دے دی ہے ، میں نے اس سے معافی بھی مانگی ہے، میرے چھوٹے چھوٹے دوبچے ہیں، اور ایک ماں کے پیٹ میں ہے , مطلب میری بیوی حاملہ ہے، کیا اسلام میں اسکا کوئی حل ہے اسے گھر واپس لانے کا ؟
( نوٹ ) میں نے بیوی کو چھ سے سات مرتبہ یہ الفاظ کہے تھے کہ میں تمہیں طلاق دیتا ہوں ، فقط سائل۔
سائل نے سوال میں درج الفاظ ”میں تمہیں طلاق دیتا ہوں“جب چھ سات مرتبہ کہے تو اس سے سائل کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے ، جبکہ بقیہ طلاقیں محل نہ ہونے کی وجہ سے لغو ہوئی ہیں، لہذا اب رجوع نہیں ہو سکتا، اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہو سکتا جبکہ عورت ایامِ عدت کے بعد اپنی مرضی سے کسی دوسری جگہ عقدِ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے اور حلالۂ شرعیہ یہ ہے کہ عورت اپنے شوہر سے علیحدگی اور عدتِ طلاق گزارنے کے بعد بغیر کسی شرط کے کسی دوسرے مسلمان شخص سے نکاح کرے اور حقوقِ زوجیت ادا کرے، ایسا کرنے سے وہ اس دوسرے شخص کی بیوی بن جائے گی ، اب اگر وہ دوسرا شخص بھی اس سے کم از کم ایک مرتبہ ہمبستری (جو کہ حلالۂ شرعیہ کے تحقق کے لئے ضروری ہے) کے فوراً بعد یا ازدواجی زندگی کے کچھ عرصہ بعد طلاق دیدے یا بیوی سے پہلے شوہر کا انتقال ہو جائے ، بہر دو صورت اس کی عدت گزرنے کے بعد اگر وہ پہلے شوہر کے نکاح میں آنا چاہے اور پہلا شوہر بھی اس کو رکھنے پر رضا مند ہو، تو ننے مہر کے تقرر کے ساتھ گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ عقدِ نکاح کر کے باہم میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی بسر کر سکتے ہیں، تاہم حلالہ اس شرط کے ساتھ کرنا کہ زوجِ ِثانی نکاح کے بعد طلاق دے تاکہ زوجِ اوّل کے لئے عورت دوبارہ حلال ہو جائے ، مکروہِ تحریمی ہے ، اور احادیثِ مبارکہ میں ایسے عمل کرنے والوں کو ملعون قرار دیا گیا ہے البتہ بغیر شرط کے بلا شبہ جائز اور درست ہے۔
كما في صحيح مسلم : عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: جَاءَتِ امْرَأَةُ رِفَاعَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: كُنْتُ عِنْدَ رِفَاعَةَ، فَطَلَّقَنِي، فَبَتَّ طَلَاقِي، فَتَزَوَّجْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الزَّبِيرِ، وَإِنَّ مَا مَعَهُ مِثْلُ هُدْبَةِ الثَّوْبِ، فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «أَتُرِيدِينَ أَنْ تَرْجِعِي إِلَى رِفَاعَةَ؟ لَا، حَتَّى تَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ، وَيَذُوقَ عُسَيْلَتَكِ»،(2/1055)۔
وفی الھندیة: وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية اھ (1/473)۔
حنفی کا تین طلاق دینے کے بعد غیر مقلدین کے فتوی پر عمل کرنے پر اصرارکرنا
یونیکوڈ حلالہ اور طلاق مغلظہ 0