میرے شوہر نے مجھے دس مرتبہ الگ الگ وقت پر طلاق دی ہے اور اب بھی میرے ساتھ رہتا ہے اور کہتا ہے غصے میں طلاق دی ہے، کیا طلاق واقع ہو گئی ہے ؟ میں اپنا کھاتی ہوں، اپنا کماتی ہوں میرا شوہر جبري ظلم بھی کرتا ہے مارتا بھی ہے گالیاں بھی دیتا ہے چھوڑنے کا کہتا ہے دہمکیاں دیتا ہےمیں اس حال میں آپ کے فتوی کی منتظر ہوں اس ظالم سے مجھے آزادی دلوائیں۔
واضح ہو کہ غصہ کی حالت میں طلاق دینے سے بھی طلاق واقع ہو جاتی ہے ، اس لیے اگر سائلہ کے شوہر نے واقعۃً اسے تین سے زائد مرتبہ طلاق دے دی ہو، اور پہلی اور دوسری طلاق کے بعد رجوع بھی کر لیا ہو تو اس سے سائلہ پر تین طلاقیں واقع ہو کر حرمت مغلظہ ثابت ہو چکی ہے ، جبکہ بقیہ طلاقیں محل نہ ہونے کی وجہ سے لغو ہوئیں ہیں ، لہذا اب رجوع نہیں ہو سکتا، اور حلالہ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقد نکاح بھی نہیں ہو سکتا، جبکہ عورت ایام عدت کے بعد اپنی مرضی سے دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے، جبکہ تین طلاقوں کے بعد دونوں کا میاں بیوی کی طرح ایک ساتھ زندگی بسر کرنا بھی ناجائز و حرام ہے ، دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں ، اور اب تک جو گناہ ہو چکا ہے اس پر تو بہ واستغفار بھی کریں۔
قال الله تعالى : الطلاق مرتان فامساك بمعروف او تسريح باحسان (البقرة)
وفي الصحيح للبخاري: وقال الليث: حدثني نافع، قال: كان ابن عمر، إذا سئل عمن طلق ثلاثا، قال: «لو طلقت مرة أو مرتين، فإن النبي صلى الله عليه وسلم أمرني بهذا، فإن طلقتها ثلاثا حرمت حتى تنكح زوجا غيرك»(7/43)
وفی الھندیة: وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها اھ .(1/473)
حنفی کا تین طلاق دینے کے بعد غیر مقلدین کے فتوی پر عمل کرنے پر اصرارکرنا
یونیکوڈ حلالہ اور طلاق مغلظہ 0