السلام عليكم
میں ایک سرکاری ادارے میں کام کرتا ہوں اور میری تنخواہ 25000/- ہزار اور اسکیل 1 ہے اورمیرا کام جہاز کی صفائی کرنا ہے لیکن میری تعلیم اور تجربہ کی وجہ سے میرے ادارے کے افسران نے مجھے ایک اکاؤنٹ اور بلنگ کلرک کے کام پر لگایا ہے جس کا کم سے کم اسکیل 9 ہے اور تنخواہ 35000/- سے 40000/- ہزار ہوتی ہے۔
میرے ادارے کے افسران مجھے اوور ٹائم کی مد میں 10000 سے 11000 ہزار روپے دیتے ہیں جواوور ٹائم میں کرتا نہیں لیکن میری تنخواہ اور اسکیل کم ہونے اور کام بڑے اسکیل کا کرنے کی وجہ سے مجھے دیا جاتا ہے میرا سوال یہ ہےکے کیا میرا یہ پيسہ لینا حرام ہے کہ حلال؟
واضح ہو کہ کسی سرکاری ادارے کے ماتحت کام کرنے والے ملازمین کی شرعی حیثیت ڈیوٹی کے مقررہ اوقات میں اجیرِ خاص کی ہوتی ہے،اور کسی بھی ادارے میں کام کرنے کی صورت میں ملازمین کو جن امور کی ذمہ داری سرکاری محکمہ کی طرف سے سپرد کی گئی ہو تو ملازمین پر اپنے مفوّضہ امور کی انجام دہی ضروری ہوتی ہے، لہذا سائل کو متعلقہ ادارےنے چونکہ ’’اس کی لیول 1 ‘‘ پر جہازوں کی صفائی والے کام پر مامور کیا ہے ، تو شرعی اور قانونی طور اسے اپنی مفوّضہ ذمہ داری کی انجام دہی لازم ہوگی۔ تاہم اگر متعلقہ محکمہ کے مجاز افسران نے اپنی صوابدید پر سائل کو اس کام کے بجائے کلرک کے ذمہ داری سونپ دی ہو اور انہیں اس بات کا اختیار بھی ہو تو سائل کے لئے یہ کام کرنا بھی جائز اور درست ہوگا، لیکن اس کی تنخواہ کے لئے سوال میں مذکور طریقہ اختیار کرنا غلط بیانی اور دھوکہ دہی پر مشتمل ہونے کی وجہ سے شرعاً درست نہیں۔ اس لئے اس محکمہ کے مجاز افسران کے ذمہ لازم ہے کہ سائل کی صلاحیت کو دیکھ کر اسے باقاعدہ اس پوسٹ ( اس کی لیول نو) پر باقاعدہ ترقی دیدے تاکہ وہ قانونی طور پر بھی اس تنخواہ کا حق دار بنے اور اس کے حصول کے لئے غیر شرعی طریقہ اختیار کرنے کی نوبت نہ آئے۔
في صحيح مسلم: عن عبد الله، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «عليكم بالصدق، فإن الصدق يهدي إلى البر، وإن البر يهدي إلى الجنة، وما يزال الرجل يصدق ويتحرى الصدق حتى يكتب عند الله صديقا، وإياكم والكذب، فإن الكذب يهدي إلى الفجور، وإن الفجور يهدي إلى النار، وما يزال الرجل يكذب ويتحرى الكذب حتى يكتب عند الله كذابا»(4/ 2013)۔
و في سنن ابن ماجه: عن أبي هريرة، قال: مر رسول الله صلى الله عليه وسلم برجل يبيع طعاما، فأدخل يده فيه فإذا هو مغشوش، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ليس منا من غش» اھ (2/ 749)۔
و في سنن الترمذي: الحسن بن علي الخلال قال: حدثنا أبو عامر العقدي [ص:627] قال: حدثنا كثير بن عبد الله بن عمرو بن عوف المزني، عن أبيه، عن جده، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «الصلح جائز بين المسلمين، إلا صلحا حرم حلالا، أو أحل حراما، والمسلمون على شروطهم، إلا شرطا حرم حلالا، أو أحل حراما»: هذا حديث حسن صحيح اھ (3/ 626)۔
و في النتف في الفتاوى: فان وقعت على عمل معلوم فلا تجب الاجرة الا باتمام العمل اذا كان العمل مما لا يصلح اوله إلا بآخره وان كان يصلح اوله دون آخره فتجب الاجرة بمقدار ما عمل واذا وقعت على وقت معلوم فتجب الاجرة بمضي الوقت ان هو استعمله او لم يستعمله وبمقدار ما مضى من الوقت تجب الاجرة اھ (2/ 559)۔
و في المبسوط للسرخسي: ويكره له أن يستأجر امرأة حرة أو أمة يستخدمها ويخلو بها لقوله - صلى الله عليه وسلم - «لا يخلون رجل بامرأة ليس منها بسبيل فإن ثالثهما الشيطان»، ولأنه لا يأمن من الفتنة على نفسه، أو عليها إذا خلا بها، ولكن هذا النهي لمعنى في غير العقد فلا يمنع صحة الإجارة ووجوب الأجر إذا عمل كالنهي عن البيع وقت النداء اھ (16/ 52)۔
و في النتف في الفتاوى للسغدي: والاجارة لاتخلو من وجهين اما ان تقع على وقت معلوم او على عمل معلوم اھ (2/ 558)-
کمپنی کی طرف سےجہاز کے ٹکٹ کی مد میں ملنے والی رقم بچا کر ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ اجرت و کرایہ داری 0