السلام علیکم !
اسلام تمام اولاد میں مساوات کا حکم دیتا ہے ،لیکن اگر کوئی اولاد والدین کے ساتھ رہتی ہو اور باقی علیحدہ رہتی ہو ، تو کیا اس صورت میں اس اولاد سے کرایا لینا ٹھیک ہو گا ؟ اگر گھر والد کا ہے، اسی طرح اگر کوئی اولاد ساتھ رہتی ہو تو اگر والد اس پر کچھ خرچہ کر دیں تو کیا یہ غلط ہے ؟
شکریہ
واضح ہو کہ ہرشخص اپنی صحت والی زندگی میں اپنے مال وجائیداد کا تنہا مالک ہوتاہے، وہ جس طرح چاہے اس میں تصرف کرسکتاہے، اولاد میں سے کسی کے لئے اس میں حصہ داری کا مطالبہ کرنے کا شرعاً کوئی حق نہیں، اس لئے عاقل بالغ نرینہ اولاد،اسی طرح شادی شدہ بیٹیوں کی کفالت شرعاً والد کے ذمہ لازم نہیں، البتہ نابالغ بچوں اور غیر شادی شدہ بالغ بچیوں کی کفالت کی ذمہ داری والد کے ذمہ لازم ہے، اورجب والد ین کے ذمہ بالغ بیٹوں اور شادی شدہ بچیوں کو رہائش یا دیگر سہولیات فراہم کرنا الازم نہیں، تو اس سلسلہ میں برابری اور مساوات کا بھی سوال پیدا نہیں ہوسکتا , اس لئے اگر والدین اپنے گھر میں بالغ اور شادی شدہ اولاد کو رہائش دے کرکرایہ کا مطالبہ کریں، تو اس میں شرعاً کوئی حرج نہیں، البتہ اگر والدین اپنی زندگی اپنی مال و جائیداد ا پنی اولاد کے درمیان تقسیم کرناچاہے، تو پھر سب کے درمیان برابری اور مساوات کا لحاظ رکھنا ضروری ہے -
کمپنی کی طرف سےجہاز کے ٹکٹ کی مد میں ملنے والی رقم بچا کر ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ اجرت و کرایہ داری 0