محترم جناب مفتی صاحب !السلام علیکم،
”اللهم أجرني من النار“ اس دعا کے بارے میں آیا ہے کہ صبح و شام پڑھی جائے ، اس کی صحت کے بارے میں معلوم کرنا ہے، براہ کرم آپ اس حدیث کا حوالہ نکال سکتے ہیں ؟
یہ حدیث ابو داؤد "باب ما يقول إذا أصبح" صفحہ نمبر ۳۳۷ /۲ پر موجود ہے، ابن حبان نےاس کو صحیح قرار دیا ہے ۔
کما في أبي داؤد: عن أبيه مسلم بن الحارث عن رسول الله ﷺ أنه أسرّ اليه فقال إذا انصرفت من صلوة المغرب فقل اللهم أجرني من النار سبع مرات فانك إذا قلت ذلك ثم مت في ليلتك كتب لك جوار منها و اذا صليت الصبح۔الحدیث (2/337)
وفي تهذيب التهذيب: أخرج ابن حبان الحديث في صحيحه۔اھ (8/149)
’’میں آلِ ہند کی طرف سے ٹھنڈی ہوا محسوس کرتا ہوں‘‘ مضمون والی حدیث کی تحقیق
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 1اگر کوئی دعا قبول نہ ہو تو اپنے والدین کی قبر جاؤ۔۔۔ الخ روایت کی تحقیق اور عورت کا قبرستان جانا
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 0حضورؐ سے حضرت خدیجہؓ کو ’’اپنی سوکنوں کو میرا سلام کہنا‘‘ ثابت یا نہیں؟
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 0’’میں بدھ کے دن ظہر اور عصر کے درمیان دعا کرتا ہوں۔۔۔ الخ روایت کی تحقیق:
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 1’’ایک زمانہ ایسا آئےگا کہ میری اُمت کو علماء اسلام سے نقصان پہنچےگا‘‘ روایت کی تحقیق
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 0’’میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمرؓ ہوتا‘‘ حدیث کی تحقیق اور حضرت عائشہؓ کی وفات
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 0صدیوں بعد پیدا ہونے والے محدثین کو حدیث کی صحت کے بارے میں کیسے پتہ چلا؟
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 0