السلام علیکم و رحمۃ اللہ محترم مفتی صاحب! آپ سے ایک مسئلہ دریافت کرنا تھا کہ کیا انسان کی زندگی پر اس کے رہنے کی جگہ یعنی اس کے مکان کا بھی کوئی اثر ہوتا ہے، ہم نے ایک مکان لیا ہے اور جب سے ہم اس مکان میں رہ رہے ہیں، ہمارے اوپر کوئی نہ کوئی پریشانی آئی رہتی ہے، مثلاً کبھی کوئی گھر کا فرد بیمار رہتا ہے تو کبھی کوئی گھر یلو پریشانی آئی رہتی ہے اور ہم نے یہ محسوس کیا ہے اور بعض لوگوں نے بھی یہ کہا ہے کہ ہمیں یہ مکان موافق نہیں آیا، لہٰذا ہم اپنا مکان بدل لیں، اب آپ سے مفتی صاحب یہ پوچھنا ہے کہ کیا قرآن وسنت میں کوئی اس طرح کی بات ہے کہ جو مکان آپ کو راس نہ آئے اسے بدل لیں، کیا واقعی ہمیں اپنا مکان بدل لینا چاہیے؟ مہربانی کر کے قرآن و سنت کی روشنی میں ہماری راہ نمائی فرمائیں ۔ اللہ آپ کو جزائے خیر عطا کرے۔
اگرچہ کسی قسم کی جسمانی بیماری یا دیگر مشکلات و مصائب کا لاحق ہونا من جانب اللہ ہوتا ہے، اس میں گھر کی نحوست کا دخل نہیں ہوتا اور اس کا علاج رجوع الی اللہ کے ساتھ ساتھ نماز و روزہ کی پابندی، اوامرِشرعیہ کی پاسداری، منکرات سےاجتناب ، اتباعِ سنت نبوی اور صبح و شام تلاوت قرآن کریم کا اہتمام اور اللہ تعالیٰ سے مانگنا ہے، البتہ اگر کوئی مکان اثر زده یا جنات وغیرہ کا مسکن ہو اور ان کا ختم کرنامشکل ہو تو ایسے مقام سے دور ہو جانے میں ہی بہتری ہے، اس لئے اگر سائل کے ساتھ بھی ایسا ہی معاملہ ہو تو وہ اسے تبدیل بھی کر سکتا ہے، اس میں شرعاً حرج بھی نہیں۔
کما في مشكاة المصابيح: وعن سعد بن مالك أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "لا هامة ولا عدوى ولا طيرة وإن تكن الطيرة فی شيء ففی الدار والفرس والمرأة "۔ رواه أبو داود (2 /1291)
وفي مرقاة المفاتيح: تحت هذا الحديث والمعنى أن فرض وجودها تكون فی هذه الثلاثة، ويؤيده ما ورد فی الصحيح بلفظ:" إن كان الشؤم فی شيء ففی الدار والمرأة والفرس"، والمقصود منه نفی صحة الطيرة على وجه المبالغة فهو من قبيل قوله - صلى الله عليه وسلم: "لو كان شيء سابق القدر لسبقته العين" فلا ينافیه حينئذ عموم نفی الطيرة فی هذا الحديث وغيره، (إلی قوله) وحاصله أن تغيير هذه الثلاثة ليست من باب الطيرة المنهية، بل جائزة، وإن كان فی الظاهر تشبه بالتطير، ولعل هذا وجه قول الأكثرين رضي الله عنهم أجمعين. (رواه أبو داود) (7/ 2899)