دو کمپنیوں میں میں کام کر رہا ہوں، پہلی میڈیا کمپنی ہے اور دوسری اسٹیٹ ایجنسی ہے۔
(1) میڈیا کمپنی میں ہمار کام یہ ہوتا ہے کہ ہم بات چیت کرتے ہیں اشتہارات کی کمپنی سے، سب سے پہلے ہم تیار کرتے ہیں کمپنیوں کو ہمارے اشتہارات خیرید نے کے لئے ، پس اگر وہ خریدتی ہے، تو ہم ان کو %150 کمیشن پر بیجتے ہیں، تو کیا یہ کمیشن جائز ہےیا ناجائز ہے؟
(2) دوسری کمپنی اسٹیٹ ایجنسی ہے،اس میں میرا کوئی دفتر یا کمپنی وغیرہ نہیں ہوتی، بلکہ میں ایک بروکر ہوتا ہوں، میں صرف بات چیت کراتا ہوں اور دونوں پارٹیوں سے ایک ایک فیصد کمیشن لیتا ہوں، کیا یہ کمیشن جائز ہے یاناجائز؟
(1)اگر اشتہارات کسی ناجائز وحرام کاروبار کے متعلق نہ ہوں اور کمیشن بھی دونوں پارٹیوں کے درمیان طے شدہ ہوں تو سائل کا مذکور طریقے سے خرید وفروخت شرعاً بھی جائز اوردرست ہے،
(2)اگر مذکور کاروبار میں کسی قسم کی دھوکہ دہی، جھوٹ اور جعل سازی سے کام نہ لیا جائے بلکہ ضرورت مندوں کو ان کی پراپرٹی کی خرید وفروخت میں معاونت پر طے شدہ کمیشن وصول کیا جائے تو یہ شرعاً بھی جائز اور درست ہے ورنہ نہیں۔
کما فی ردالمحتار: و فی الدلال والسمسار یجب اجر المثل وما توا ضعوا علیہ ان فی کل عشرۃ دنانیر کذا فذالک حرام علیھم و فی الحاوی سئل محمد بن سلمۃ عن اجرۃ السمار فقال أرجو لاباس بہ وان کان فی الاصل فاسدا لکثرۃ التعامل وکثیر من ھذا غیر جائز فجوزوہ لحاجۃ الناس الیہ کدخول الحمام الخ (6/63)۔
کمپنی کی طرف سےجہاز کے ٹکٹ کی مد میں ملنے والی رقم بچا کر ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ اجرت و کرایہ داری 0