اگر نماز میں کسی نے سجدہ سہو کیا یہ سمجھ کر کہ اُس پر واجب ہوا ہے،لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ واجب نہ ہواتھا، تو اس کے بلاوجہ سجدہ سہو کرنے کی وجہ سے اُس کی نماز پر کیا اثر ہوگا؟
اگرچہ مذکورہ صورت کا حکم مختلف فیہ ہے ،مگر مسائل ِشرعیہ خصوصاً مسائل سجود سہو میں غلبہ جہل کی وجہ سے ،مفتیٰ بہ یہ ہے کہ ایسا کرنے کی صورت میں نماز پر اثر نہیں پڑا، بلکہ نماز درست ادا ہوچکی ہے، تاہم آئندہ کےلیے نماز میں توجہ اور دھیان کی ضرورت ہے۔
کمافي خلاصة الفتاوى: اذا ظن الامام ان عليه سهوا فسجد للسهو وتابعه المسبوق في ذلك ثم علم ان الامام لم يكن سھو فیہ روایتان . واختلف المشائخ لاختلاف الروايتین واشهرهما ان صلوة المسبوق يفسد وقال الامام ابوحفص الكبير لايفسد والصدر الشهيد اخذ به في واقعاته وان لم يعلم الامام ان ليس عليه سهو لم يفسد صلوة المسوق عندهم جميعًا( 163/1)۔
سجدہ سہو لازم ہونے کی صورت میں بھول کر سلام پھیرنا اور یاد آنے پر فوراً سجدہ کرلینا
یونیکوڈ سجدہ سھو 1ایک رکعت کا رہا ہوا سجدہ, دوسری رکعت کے سجدوں کے ساتھ قضا کرتے ہوئے تین سجدے کرنا
یونیکوڈ سجدہ سھو 0اکیلے نمازی کا قعدۂ اولی میں ، اور مسبوق کا قعدۂ اخیرہ میں درود شریف پڑھ لینے کا حکم
یونیکوڈ سجدہ سھو 2فرض نماز کی آخری رکعتوں میں فاتحہ کے بعد سورت ملانےاور قعدہ اولیٰ میں درود شریف پڑھنے سے سجدہ سہو لازم ہوگا ؟
یونیکوڈ سجدہ سھو 0