مجھے ایک الیکٹرانک کمپنی کو جگہ کرایہ پر دینی ہے جو قسطوں پر سامان فروخت کرے گی، کیا ان کو جگہ کرایہ پر دینا صحیح ہے؟
واضح ہو کہ قسطوں پر کیے جانے والے تمام کاروبار غیر شرعی اور ناجائز نہیں ہوتے ، بلکہ قسطوں پر کیے جانے والے جس کاروبار میں شرعی حدود اور شرائط کا لحاظ رکھا جائے،تو وہ شرعاً بھی جائز اور درست ہے، اس لئے اگر سوال میں مذکور الیکٹرانک کمپنی قسطوں پر کاروبار کرتے وقت شرعی حدود کا لحاظ رکھےتو ان کو جگہ کرایہ پر دینا بلاشبہ جائز اور درست ہے، تاہم اگر اس کاروبار میں شرعی اعتبارسے کمزروی بھی ہو، تب بھی سائل کے لیے جگہ کاکرایہ لینا اگرچہ ناجائز یا حرام تو نہ ہوگا، تاہم احتیاط بہتر رہےگا۔
کمپنی کی طرف سےجہاز کے ٹکٹ کی مد میں ملنے والی رقم بچا کر ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ اجرت و کرایہ داری 0