میری اپنی بیوی سے ایک دو سالہ بچی اور تقریباً ایک سالہ بچہ موجود ہے ،میں اپنی بیوی کو بذریعہ عدالت طلاق دے چکا ہوں، البتہ آمنے سامنے طلاق نہیں دی،تو کیا طلاق ہو گئی ہے؟اور میرے بچوں کا خرچہ کتنا آئے گا؟
واضح ہو کہ بیوی کو طلاق دیتے وقت اس کا سامنے موجود ہوناضروری نہیں، بلکہ اس کی عدم موجودگی میں طلاق دینے سے بھی طلاق واقع ہوجاتی ہے، اس لیے جب سائل نے عدالت کے ذریعہ بیوی کوتحریری طورپر طلاق دیدی ہے، تو اس سے سائل کی بیوی پر طلاق نامہ میں درج طلاقیں واقع ہوچکی ہے، جبکہ سائل کے دونوں بچے اس وقت کم عمر ہیں، اس لیے فی الوقت یہ دونوں اپنی والدہ کی پرورش میں رہیں گے، اور ان کے پروش پر آنے والے اخراجات حسب وسعت سائل کے ذمہ لازم ہوں گے، البتہ اگر اس دوران سائل کی سابقہ بیوی ان بچوں کی کسی غیرذی رحم محرم سے نکاح کرلیتی ہے، تو اس کی وجہ سے ان کا حق پرورش ساقط ہوجائے گا، اور اس کے بعد بچوں کی نانی اور اس کے بعد دادی پرورش کی حقدار ہوگی۔
حنفی کا تین طلاق دینے کے بعد غیر مقلدین کے فتوی پر عمل کرنے پر اصرارکرنا
یونیکوڈ حلالہ اور طلاق مغلظہ 0