ایک شخص کے پاس شناختی کارڈ ہے، مسلمان کے طور پر، لیکن وہ اپنا مذہب” بہائی“ ہونے کا اعلان کرتا ہے، اور اپنے کام کی جگہ خود کو اقلیت ظاہر کرتا ہے، جبکہ کاغذات میں مسلمان لکھتا ہے، اس کے ایسا کرنے سے کیا مرتد کہلا ئے گا یا نہیں؟
واضح ہو کہ بہائی فرقہ اپنے غلط اور باطل عقائد و نظریات کی وجہ سے گمراہ اور دائرہ اسلام سے خارج ہے، لہذا سوال میں درج کر دہ بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی برحقیقت ہو ، اور مذکور شخص کو بہائی فرقے کے عقائد و نظریات کا علم ہو، اور پھر اس نے جان بوجھ کر اپنے آپ کو اقلیت میں شمار کرنے کے لئے بہائی مذہب کی طرف منسوب کر لیا ہو تو ایسا کرنا قطعا ًحرام اور گناہ ِکبیرہ ہے، اور شخص مذکور اپنی اس غلط حرکت کی وجہ سے دائرہ اسلام سے خارج ہو چکا ہے، لہذا اس پر لازم ہے کہ اپنے اس گناہ پر بصدقِ دل تو بہ واستغفار کرتے ہوئے تجدید ایمان و تجدید نکاح کرے، اور آئندہ کیلئے اس طرح کے ناجائز اور گناہ کے کاموں سے مکمل اجتناب کرے۔
كمافي الفتاوى الهندية : ومنهامايتعلق بذات الله تعالى وصفاته وغير ذلك يكفر اذا وصف الله تعالى بما لايليق به أو سخر باسم من أسمائله أو بأمر من أوامره أو أنكر وعده ووعيده أو جعل لہ شريكا أو ولدا أو زوجة أو نسبه إلى الجھل أو العجز أو النقص ويكفر بقوله يجوز أن يفعل الله تعالى فعلا لا حكمة فيه ويكفر ان اعتقد أن الله تعالى يرضى بالكفر كذا في البحر الرائق إذا قال لو أمرني الله بكذا فقد كفر كذا في الكافي . ( ج ۲ ص ۲۵۸) والله اعلم بالصواب
کاغذات میں مسلمان ہو مگر زبان سے اپنے کو اقلیت والوں میں سے ہونے کو کہنے کا حکم
یونیکوڈ ادیان متفرقہ 0