6 ماہ قبل میرا اور میری بیوی میں جھگڑا ہوا،جس کی وجہ سے اس نے میرا گھر چھوڑ دیا اور میری 1 سالہ بیٹی کےساتھ اپنے والدین کے ساتھ رہنے لگی ، 2 ماہ کے بعد میں نے عدالت میں "کونگل رائٹس کی بحالی" کیس کے لئے درخواست دی ،کیونکہ میں چاہتا تھا کہ وہ واپس آجائے ،لیکن بدلے میں اس نے خلع کے لئے درخواست دی، جہاں پر کارروائی چل رہی تھی اور ایک ماہ قبل عدالت میں اس نے جھوٹا اعلان کیا تھا کہ میں اس پر اور میری بیٹی پر جسمانی تشدد کرتا تھا، جب میرے وکیل نے مجھے یہ خبر سنائی تو میں نے 3 دن تک کئی بار اعلان کیا کہ میں نے اسے طلاق دے دی ہے، اب وہ میری بیوی نہیں رہی،میں نے اپنے والد، والدہ، بھائی اور دوست کے سامنے طلاق کا اعلان کیا ہے، لیکن بیوی کے سامنے نہیں ۔
4 اگست کو دوبارہ کارروائی ہوئی اور عدالت نے اسے طلاق دے دی،اب کچھ دن پہلے اسے اپنی غلطی کا احساس ہوا، اس نے کہا کہ اس نے اپنے والدین کے دباؤ کی وجہ سے مجھ پر جھوٹا الزام لگایا اور اب واپس آنا چاہتی ہوں، وہ نہیں جانتی کہ میں نے غصے میں اسے ایک ماہ پہلے اپنے والدین کے سامنے طلاق دے دی ہے۔
عدالت کے مطابق خلع کی ڈگری 60 دن میں واپس لی جا سکتی ہے ،اب میں فتویٰ لینا چاہتا ہوں، اگر میں اسے واپس لاؤں تو میری بیوی ناجائز ہوگی ؟ یا طلاق ہوگئی ہے ؟ اور اب وہ مجھ پر حرام ہے ؟
واضح ہو کہ طلاق کی جھوٹا اقرار کرنےسے بھی شرعاً طلاق واقع ہوجاتی ہے، اس لئے سائل نے اگرچہ اپنی بیوی کو براہ راست کوئی طلاق نہ بھی دی ہو، لیکن جب انہوں بیوی کے بےجا الزام لگانے کے بعد غصہ میں تین سے زائد مرتبہ بیوی کو طلاق دینے کا اقرار کرلیاہے،( اگرچہ جھوٹا ہی کیوں نہ ہو) تب بھی اس سے اس کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے، اب رجوع نہیں ہوسکتا اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہوسکتا، جبکہ عورت ایامِ عدت کے بعد کسی بھی دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہے۔
طلاق دینے کے بعد عدالتی خلع کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہی، اور نہ ہی یونین کونسل سے اس کے موثرہونے اور نہ ہونے سے کوئی فرق پڑتاہے۔
قال اللّٰہ تعالیٰ : اَلطَّلاَقُ مَرَّتٰنِ (إلی قولہ) فَإِنْ طَلَّقَہَا فَلاَ تَحِلُّ لَہٗ مِنْ بَعْد حَتّٰی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَہٗ الایۃاھ ( البقرۃ آیت : 229،230)
وقال اللیث عن نافع کان ابن عمر إذا سئل عمن طلق ثلاثا قال: قال لوطلقت مرۃ أو مرتین فإن النبي صلی اﷲ علیہ و سلم أمرني بہذا فإن طلقہا ثلاثا حرمت حتی تنکح زوجا غیرہ۔ (بخاري شریف،کتاب الطلاق ج2ص292)-
وفی تنویرالابصار:و یقع طلاق کل زوج بالغ عاقل و لوعبدا او مکرھا او ھازلا اوسفیھا او سکران اھ(ج3ص235)-
و فی رد المحتار: في الخانية، و لو أقر بالطلاق كاذبا أو هازلا وقع قضاء لا ديانة . اه. و يأتي تمامه. اھ(كتاب الطلاق، 236/3)-
و فی الھدایۃ: و ان کان الطلاق ثلاثافی الحرۃ و اثنتین فی الامۃ لم تحل لہ حتی تنکح زوجا غیرہ نکاحا صحیحاً و یدخل بھا ثم یطلقھا اویموت عنھا اھ(ج2ص399) -
حنفی کا تین طلاق دینے کے بعد غیر مقلدین کے فتوی پر عمل کرنے پر اصرارکرنا
یونیکوڈ حلالہ اور طلاق مغلظہ 0