حدیث کی تحقیق کے بارے میں سوال ہے کہ انس بن مالک سے روایت ہے کہ پیغمبرﷺ نے فرمایا ’’جب ایک شخص اپنا مکان چھوڑتا ہے اوروہ ’’بسم اللہ توکلت علی اللہ ولاحول و لاقوۃ إلا باللہ‘‘ کہتا ہے تو یہ کہا جاتا ہے کہ تمہاری رہنمائی کی گئی، خیال کیا گیا اور حفاظت کی گئی، اور شیطان اس سے دور ہوجاتا ہے۔ اور ایک دوسرا شیطان اس سے کہتا ہے اس شخص کا کون کیا بگاڑ سکتا ہے جس کی رہنمائی خیال اور حفاظت کی گئی ہو‘‘ جامع الترمذی میں اس کو صحیح قرار دیا گیا ہے اور ابوداؤد میں بھی۔ آپ کیا فرماتے ہیں؟
مذکور حدیث مرفوع ،متصل السند اور قابلِ عمل ہے، اور معمول کے طور پر اس کو اختیار کیا جا سکتا ہے۔
ففی سنن الترمذي:عن أنس بن مالك، قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم - : من قال، يعني، إذا خرج من بيته: بسم الله، توكلت على الله، لا حول ولا قوة إلا بالله، يقال له: كفيت، ووقيت، وتنحى عنه الشيطان. هذا حديث حسن غريب، لا نعرفه إلا من هذا الوجه. (5/ 365)-
’’میں آلِ ہند کی طرف سے ٹھنڈی ہوا محسوس کرتا ہوں‘‘ مضمون والی حدیث کی تحقیق
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 1اگر کوئی دعا قبول نہ ہو تو اپنے والدین کی قبر جاؤ۔۔۔ الخ روایت کی تحقیق اور عورت کا قبرستان جانا
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 0حضورؐ سے حضرت خدیجہؓ کو ’’اپنی سوکنوں کو میرا سلام کہنا‘‘ ثابت یا نہیں؟
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 0’’میں بدھ کے دن ظہر اور عصر کے درمیان دعا کرتا ہوں۔۔۔ الخ روایت کی تحقیق:
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 1’’ایک زمانہ ایسا آئےگا کہ میری اُمت کو علماء اسلام سے نقصان پہنچےگا‘‘ روایت کی تحقیق
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 0’’میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمرؓ ہوتا‘‘ حدیث کی تحقیق اور حضرت عائشہؓ کی وفات
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 0صدیوں بعد پیدا ہونے والے محدثین کو حدیث کی صحت کے بارے میں کیسے پتہ چلا؟
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 0