السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ
کیا فرماتے ہیں علماءِ دین و مفتیانِ شرعِ متین مسئلہ ذیل میں کہ کیا قاضی کے عہدہ پر فائز ہونے کے لئے شادی کرنا شرط ہے ؟ ہمارے علاقے میں ایک حافظ عالم مفتی صاحب کو گورنمنٹ قاضی بنایا گیا ہے لیکن ان کی شادی نہیں ہوئی ہے ، چند ماہ میں ہو جائے گی , مفتی صاحب کی فراغت ہو کر سات سال ہو چکے ہیں اور الحمد اللہ فراغت کے بعد سے ہی وہ ملی مسائل میں ہمیشہ آگے رہتے ہیں جسکے نتیجہ میں انکو گورنمنٹ قاضی بنایا گیا ہے , تو کیا بغیر شادی کے ان کے لئے قاضی بننا از روئے شرع جائز نہیں ؟ بعض لوگوں کا اعتراض ہے کہ بغیر شادی کے قاضی کیسے بنایا جائے گا ؟ برائے مہربانی از روئے شرع راہنمائی فرمائیں ۔جزاک اللہ خیرا کثیرا
قاضی بننے کیلئے شادی شرط نہیں ہے ، مذکور قاضی صاحب پر ان کی شادی نہ ہونے کی وجہ سے اعتراض کرنے والوں کو اپنے اس عمل سے باز آنا چاہیئے ،تاکہ بلاوجہ قاضی صاحب کے متعلق لوگوں میں بدگمانی پیدا نہ ہو ،البتہ قاضی صاحب کو بھی چاہئیے کہ جلد شادی کرلے تاکہ اس اعتراض کے ختم ہونے کے ساتھ وہ ان کی قضاء میں بھی معاون ہو -
کما فی الھندیۃ:و لا تصح ولاية القاضي حتى يجتمع في المولى شرائط الشهادة كذا في الهداية من الإسلام و التكليف و الحرية و كونه غير أعمى و لا محدودا في قذف و لا أصم و لا أخرس ، و أما الأطرش، و هو الذي يسمع القوي من الأصوات فالأصح جواز توليته كذا في النهر الفائق . اھ (3/307)-