السلام علیکم جناب !
مفتی صاحب! مجھے یہ جاننا ہے کہ اگر شوہر بیوی کو طلاق نامہ بذریعہ ڈاک بھجوائے اور پھر کچھ دنوں میں ہی اپنی بیوی سے صلح کرنا چاہے تو کیا وہ صلح کر سکتا ہے؟
واضح ہو کہ طلاق نامہ بنوانے سے ہی طلاق واقع ہوجاتی ہے،طلاق نامہ پر دستخط کرنا یا بیوی کو بھجوانا کوئی ضروری نہیں،لہذا سائل نے جب طلاق نامہ بنوایا تھا تو اس کی بیوی پر اس طلاق نامہ میں درج تمام طلاقیں واقع ہوگئی ہیں،مذکور طلاق نامہ میں اگر ایک یا دو طلاقیں لکھی ہوں تو سائل عدت کے اندر رجوع کرسکتاہے،لیکن اگر طلاق نامہ میں تین طلاقیں درج ہوں تو سائل کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے،اب رجوع نہیں ہوسکتا،اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر دوبارہ نکاح بھی نہیں ہوسکتا ، جبکہ اس صورت میں عورت عدت مکمل کرنے کے بعد کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔
حنفی کا تین طلاق دینے کے بعد غیر مقلدین کے فتوی پر عمل کرنے پر اصرارکرنا
یونیکوڈ حلالہ اور طلاق مغلظہ 0