السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ! کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام ایسے شخص کے بارے میں جو مندرجہ ذیل نظریہ رکھتا ہو :
1۔محرم الحرام کے مہینہ میں حضرات اہلِ بیت رضی اللہ عنہم اجمعین کا تذکرہ نہیں کرنا چاہیۓ، کیونکہ محرم الحرام میں ایسا کرنا "تشبہ بالروافض"ہے ۔
2۔اس دور کا تقاضہ یہ ہے کہ اپنے بچوں کے نام "ابوبکر،عمر،عثمان،معاویہ رضی اللہ عنہم اجمعین " کے ناموں پر رکھیں، نہ کہ حسن ،حسین ،عون ،محمد تقی ،نقی رضی اللہ عنہم اجمعین کے ناموں پر ، کیونکہ اس سے اہل تشیع کو تقویت ملتی ہے ۔
3۔ کسی عالمِ دین کے یوم وفات یا کسی شہید کے یومِ شہادت کو ہر سال اسی متعین دن پر اہتمام سے منانا ، اس کے لۓ تقریب کا انعقاد کرنا اور یہ کہنا کہ ہم تو ان کے نظریہ پر لوگوں کو جمع کرتے ہیں ، اس کا کیا حکم ہے؟ کیا یہ تشبہ بالبدعۃ نہیں ہے؟ اس عمل میں اوربرسی میں کیا فرق ہے؟از راہِ کرم جلد سے جلد جواب عنایت فرمائیں ۔
(3/1)۔ واضح ہو کہ اہلِ بیت رضوان اللہ علیہم اجمعین سے محبت و عقیدت رکھنا ہمارے ایمان کا تقاضا ہے، اور ان کی سیرت ،فضائل اور ان کی دین کے لۓ دی گئی قربانیوں کو بیان کرنا ایک اہم تقاضہ ہے ، اس مقصد کیلۓ رسم و رواج سے بچتے ہوئے کانفرسز اور جلسوں کا انعقاد بھی درست ہے ، البتہ اس مقصد کیلۓ کوئی مخصوص دن اور تاریخ مقرر کرنا اور اسی کو لازم سمجھنا درست نہیں ،بلکہ پورے سال میں کسی بھی دن یہ مجالس منعقد کی جاسکتی ہیں،لہٰذا محرم الحرام کے مہینے میں بھی اہلِ بیت رضوان اللہ علیہم اجمعین کے تذکرہ کرنے میں شرعاً کوئی قباحت نہیں،البتہ فی زماننا ان مخصوص تاریخوں میں اس کے لۓ باقاعدہ اس طرح کی مجالس منعقد کرنے میں چونکہ ایک گونہ اہلِ تشیع کی مشابہت ہے ، اس لۓ تذکرۂ اہلِ بیت کے لۓ ان ایام میں اہلِ تشیع کی طرح باقاعدہ مجالس ان ہی دنوں میں منعقد کرنا بھی درست نہیں ،اس لۓ ان مخصوص ایام یا کسی شہید کی یومِ وفات یا کسی شہید کی یومِ شہادت پر التزام کے ساتھ اس طرح کی مجالس ان ہی دنوں میں منعقد کرنا بھی درست نہیں ، اس لۓ ان مخصوص ایام میں اس طرح کے پروگراموں سے احتراز چاہیۓ ۔
2۔ سوال میں درج تقریبا تمام نام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ہیں ،اس لۓ ان میں سے کسی نام کو بھی اپنے بچوں کے لۓ منتخب کرنا نہ صرف جائز ، بلکہ باعثِ برکت ہے ،اس لۓ یہ کہنا کہ ان ناموں سے روافض کے ساتھ تشبیہ ہوگی ، درست نہیں ۔
فی التفسیر المظھری : لا يجوز ما يفعله الجهال بقبور الأولياء و الشهداء من السجود و الطواف حولها و اتخاذ السرج و المساجد عليها و من الاجتماع بعد الحول كالاعياد و يسمونه عرسا اھ(2/65)۔
و فی رد المحتار : (قوله و ھی اعتقاد الخ)(الی قوله) و حينئذ فيساوي تعريف الشمني لها بأنها ما أحدث على خلاف الحق المتلقى عن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - من علم أو عمل أو حال بنوع شبهة و استحسان و جعل دينا قويما و صراطا مستقيما اهـ(1/560،561)۔
و فیه ایضا : و التشبه بأھل البدع منھی عنه فتجب مخالفتھم اھ۔أقول : و کراهة التشبه بأھل البدع مقررة عندنا أیضا لکن لا مطلقا بل فی المذموم و فیھا قصد به التشبه بھم اھ(6/763)۔