کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ "جماعت ذاکرین" جو صرف ذکر پر ہی اکتفاء کرتے ہیں اور صلاۃ کے منکر ہیں (جو ذکری فرقہ کے نام سے مشہور ہے) :
(1)اس کی اصل حقیقت کیا ہے ؟
(2)ان کو سبب بنا کر کوئی فائدہ حاصل کرنا صحیح ہے یا نہیں؟ مثلاً ان کی سفارش سے کوئی عہدہ حاصل کرنا یا کوئی اور فائدہ جو کہ بذاتِ خود جائز ہو حاصل کرنا صحیح ہوگا یا نہیں ؟
براہِ کرم اس مسئلۂ شرعی کا حل بیان فرما کر سعادتِ دارین کے مستحق ہوں۔
مذکور فرقہ عقائدِ اسلامیہ ،فرائضِ اسلام یعنی نماز ،روزہ ، حج کے انکار کیوجہ سے دائرۂ اسلام سے خارج ہے ، ان کے ساتھ مسلمانوں جیسے دوستانہ تعلقات رکھنا جائز نہیں ، البتہ ان کی سفارش سے کوئی عہدہ حاصل کرنے میں اگر مسلمان کی اہانت اور اس کے نتیجے دینی نقصان کا اندیشہ نہ ہو اور اس عہدہ کو حاصل کرنے کا کوئی دوسرا ذریعہ بھی نہ ہو تو بامرِمجبوری ان کی سفارش سے کوئی جائز عہدہ حاصل کرنا جائز اور درست ہے۔
فی تفسير الآلوسي روح المعاني : و ذكر بعضهم جواز الاستعانة بشرط الحاجة و الوثوق أما بدونهما فلا تجوز و على ذلك يحمل خبر عائشة ، و كذا ما رواه الضحاك عن ابن عباس في سبب النزول ، و به يحصل الجمع بين أدلة المنع و أدلة الجواز على أن بعض المحققين ذكر أن الاستعانة المنهي عنها إنما هي استعانة الذليل بالعزيز و أما إذا كانت من باب استعانة العزيز بالذليل فقد أذن لنا بها اھ (2/ 116)۔
و فی الھندية : و إن أنكر فرضية الركوع و السجود مطلقا يكفر اھ(2/269)۔
و فیھا ایضا : إذا أنكر الرجل آية من القرآن کفر اھ(2/266)۔
و فی الدر المختار : و قد استعان -علیه الصلاة و السلام- بالیھود علی الیھود و رضخ لھم اھ(4/148)۔
و فی الشامية : ثم «إنه - عليه الصلاة و السلام - استعان في غزوة خيبر بيهود من بني قينقاع ، و في غزوة حنين بصفوان بن أمية اھ(4/148)۔