آیات کی تفسیر و تشریح

"اللہ تعالی شہ رگ سے زیادہ قریب بھی ہے اور پچاس ہزار سال کی دوری پر بھی" اس ظاہری تضاد کا دفعیہ

فتوی نمبر :
60359
| تاریخ :
2003-05-17
قرآن و حدیث / تفسیر و احکام القرآن / آیات کی تفسیر و تشریح

"اللہ تعالی شہ رگ سے زیادہ قریب بھی ہے اور پچاس ہزار سال کی دوری پر بھی" اس ظاہری تضاد کا دفعیہ

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اللہ تعالیٰ اور اس کا تخت کہاں ہے؟ اللہ تعالیٰ شہ رگ سے زیادہ قریب ہیں ، لیکن وہ تخت پر بھی ہیں جو کہ پانی کے اوپر موجود ہے ، جبکہ ایک جگہ ذکر ہے کہ اللہ تعالیٰ اتنا دور ہے کہ اس تک رسائی کے لیے ایک ہزار (۱۰۰۰)سے پچاس ہزار(۵۰۰۰۰) سال تک درکار ہوتے ہیں ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

محترم ان آیات میں اگر غور و خوض سے کام لیا جائے تو قطعاً کوئی تعارض نہیں ، بلکہ ہر آیت کا مصداق اور حکم دوسری آیت کے مصداق سے بالکل الگ اور واضح ہے ، اس طور پر کہ اللہ تعالیٰ کا عرش کائنات بننے سے پہلے پانی پر تھا ، جیسا کہ تیسرے حوالے سے معلوم ہو رہا ہے اور اب ساتوں آسمانوں سے اوپر ہے جیسا کہ آخری آیت سے معلوم ہو رہا ہے ، اور اللہ تعالیٰ اپنے علم کے لحاظ سے تمام مخلوق کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے اور قُرب سےمراد قُربِ مسافت نہیں ، جیسا کہ سائل کو وہم ہوگیا ہے، بلکہ اس سے مراد قُربِ علمی اور احاطہ علمی ہے۔
اسی طرح ایک ہزار سال تک کی مسافت سے اللہ تعالیٰ اوراس کے عرش تک کا درمیانی فاصلہ نہیں ، بلکہ یہ بیان کرنے سے ، بتانا مقصود ہے کہ نامہ اعمال لکھنے والے فرشتے ، اتنی دور سے آتے ہیں کہ اگر انسان اس مسافت کو طے کرتے تو ایک ہزار سال تک کا زمانہ درکار ہوتا۔
اسی طرح پچاس ہزار سال والے فرمان سے ، قیامت کے دن کی طوالت مراد ہے کہ وہ اتنی مقدار کا دن ہوگا کہ پچاس ہزار سال تک انسان چلتا رہے تو جتنا وقت اس سفر کے دوران خرچ ہوگا اتنا ہی یہاں درکار ہے ، اس سے اللہ تعالیٰ کے قُرب اور بُعد پر استدلال علمِ تفسیر و حدیث سے ناواقفیت پر دلیل ہے۔
لہٰذا سائل کو چاہیے کہ بلاتحقیق اس قسم کے مسائل ، عوام میں بیان کر کے اختلاف و انتشار پھیلانے سے احتراز کرے۔

مأخَذُ الفَتوی

ففی تفسير روح المعاني : ﴿وَ نَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ﴾ أي نعلم به و بأحواله ، لا يخفى علينا شيء من خفياته على أنه أطلق السبب و أريد المسبب لأن القرب من الشيء في العادة سبب العلم به و بأحواله أو الكلام من باب التمثيل و لا مجال لحمله على القرب المكاني لتنزهه سبحانه عن ذلك ،(13/ 328)۔
و فی تفسير القرطبي : و هذا تمثيل للقرب ، أي نحن أقرب إليه من حبل وريده الذي هو منه ، و ليس على وجه قرب المسافة .( إلی قوله) و هذا القرب قرب العلم و القدرة اھ(17/ 9)۔
و فی نقض الامام ابی سعید : حدثنا موسى بن إسماعيل ، ثنا حماد -و هو ابن سلمة- عن عاصم ، عن زر ، عن ابن مسعود - رضي الله عنه - قال : "بين السماء السابعة و بين الكرسي خمسمائة عام ، و بين الكرسي إلى الماء خمسمائة عام، و العرش على الماء ، و الله ، فوق العرش و هو يعلم ما أنتم عليه" اھ(ج/1ص/422)۔
و فیه ایضاً : حدثنا موسى بن إسماعيل ، ثنا حماد بن سلمة ، عن عاصم ، عن زر ، عن ابن مسعود - رضي الله عنه - قال: "ما بين السماء الدنيا و التي تليها مسيرة خمسمائة عام ، و بين كل سمائين مسيرة خمسمائة عام و بين السما السابعة و بين الكرسي خمسمائة عام و العرش على الماء و الله فوق العرش ، و هو يعلم ما أنتم عليه اھ(ج/1ص/466)۔
و فی الكشف و البيان - تفسير الثعلبي : الَّذِي خَلَقَ السَّمَوَاتِ وَ الاْرْضَ وَ مَا بَيْنَهُمَا فِي سِتَّةِ أَيَّام ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ مَا لَكُمْ مِنْ دُونِهِ مِن وَلِيّ وَ لاَ شَفِيع أَفَلاَ تَتَذَكَّرُونَ يُدَبِّرُ الاْمْرَ مِنْ السَّمَاءِ إِلَى الاْرْضِ ( أي ينزل الوحي مع جبرائيل من السماء إلى الأرض ) ثُمَّ يَعْرُجُ ( يصعد ) إِلَيْهِ ( جبرائيل بالأمر في يوم واحد من أيّام الدُّنيا ، وَ قَدْرُ مسيرِهِ ألف سنة ، خمسمائة نزوله من السماء إلى الأرض ، و خمسمائة صعوده من الأرض إلى السماء . و ما بين السماء إلى الأرض مسيرة خمسمائة سنة يقول : لو ساره أحد من بني آدم لم يسره إلاّ في ألف سنة ، و الملائكة يقطعون هذه المسافة بيوم واحد ، فعلى هذا التأويل نزلت الآية في وصف مقدار عروج الملائكة من الأرض إلى السماء ، و نزولهم من السماء إلى الأرض ، و أمّا قوله : ) تَعُرجُ الملائِكَةُ وَ الرُوحُ إِليهِ فِي يَوم كَانَ مِقدَارهُ خَمْسِينَ أَلفَ سَنَة ( فإنّه أراد مدّة المسافة من الأرض إلى سدرة المنتهى التي فيها مقام جبرائيل - عليه السلام - . يقول : يسير جبرائيل و الملائكة الذين معه من أهل مقامهِ مسيرة خمسين ألف سنة في يوم واحد من أيّام الدنيا ، و هذا كلّه معنى قول مجاهد و قتادة و الضحّاك اھ(7/ 326)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 60359کی تصدیق کریں
0     2214
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • مافی الارحام کی تشریح

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   آیات کی تفسیر و تشریح 0
  • آیت تطہیر کن مبارک ہستیوں کے بارے میں نازل ہوئی؟ اور اہل بیت میں شامل افراد

    یونیکوڈ   آیات کی تفسیر و تشریح 0
  • سورۃ مائدہ کی آیت نمبر ۴۴ اور ۶۳ میں ’’احبار‘‘ اور ربانییون‘‘ سے کیا مراد ہے؟

    یونیکوڈ   آیات کی تفسیر و تشریح 0
  • سورۃ رحمٰن کی آیت نمبر 2 اور 3 میں کس قرآن کا ذکر ہے؟

    یونیکوڈ   آیات کی تفسیر و تشریح 0
  • تفسیرِ کا اہل کون ؟

    یونیکوڈ   آیات کی تفسیر و تشریح 1
  • ’’قد جاءکم من اللہ نور ‘‘سے آپﷺ کونور سے ثابت کرنا

    یونیکوڈ   آیات کی تفسیر و تشریح 0
  • سورۃ الأنبیاء کی آیت نمبر ۱۰۴ اور ۱۰۵ کی وضاحت

    یونیکوڈ   آیات کی تفسیر و تشریح 0
  • اللہ تعالیٰ کا اپنے حبیب پر درود بھیجنے کا مطلب

    یونیکوڈ   آیات کی تفسیر و تشریح 0
  • الٹراساؤنڈ کے ذریعہ بچہ کی جنس کا علم ہو جانا

    یونیکوڈ   آیات کی تفسیر و تشریح 0
  • عذاب نازل شدہ مقامات کی زیارت کرنا

    یونیکوڈ   آیات کی تفسیر و تشریح 0
  • سورۃ بقرہ آیت نمبر ۶۲ اور سورۃ مائدہ آیت نمبر ۶۹ کی تفسیر ی وضاحت

    یونیکوڈ   آیات کی تفسیر و تشریح 0
  • ولی کی اجازت کے بغیر نکاح سے متعلق آیت قرآنی اور حدیث میں تعارض کا دفعیہ

    یونیکوڈ   آیات کی تفسیر و تشریح 0
  • آیت ’’وَوَجَدَک عائِلًا فَأَغْنی‘‘ کی تفسیر

    یونیکوڈ   آیات کی تفسیر و تشریح 1
  • ’’القاہا إلی مریم و روح منہ‘‘ کی تفسیر

    یونیکوڈ   آیات کی تفسیر و تشریح 0
  • ہفتہ کے دن شکار سے مطلق علیحدہ رہنے والی تیسری جماعت کے ساتھ کیا معاملہ ہوا؟

    یونیکوڈ   آیات کی تفسیر و تشریح 0
  • ’’ القرآن اکیڈمی‘‘ میں تفسیر پڑھنا

    یونیکوڈ   آیات کی تفسیر و تشریح 0
  • سورۃ ہود کی آیت نمبر۱۰۷ اور ۱۰۸ کی وضاحت

    یونیکوڈ   آیات کی تفسیر و تشریح 0
  • آیت ﴿ و مکروا ومکراللہ﴾ کے ترجمہ سے متعلق ایک اشکال

    یونیکوڈ   آیات کی تفسیر و تشریح 0
  • ’’حضورؐ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں‘‘ کا مطلب

    یونیکوڈ   آیات کی تفسیر و تشریح 0
  • ’’أن لیس للانسان إلا ماسعیٰ‘‘ اور احادیث میں ظاہری تعارض کا دفعیہ

    یونیکوڈ   آیات کی تفسیر و تشریح 0
  • ’’قوّامون‘‘ کا ترجمہ ’’حاکم‘‘ سے کرنا -اسلام میں مرد و عورت کی برابری کا تصور

    یونیکوڈ   آیات کی تفسیر و تشریح 0
  • ہاروت و ماورت نامی فرشتوں کو اللہ نے مخصوص کام کیلئے زمین پر مبعوث فرمایا

    یونیکوڈ   آیات کی تفسیر و تشریح 0
  • ’’الولد للفراش‘‘ اور ’’وَجَعَلْنا مِنَ الْماءِ کلَّ شَیءٍ حَیّ‘‘ میں ظاہری تعارض اور اس کا دفعیہ

    یونیکوڈ   آیات کی تفسیر و تشریح 0
  • ’’ہر چیز نے اپنے اصل کی طرف جانا ہے‘‘ کا مطلب

    یونیکوڈ   آیات کی تفسیر و تشریح 0
  • معوّذتین کے شانِ نزول(نبی ﷺ پر جادو)کےمنکر کا حکم

    یونیکوڈ   آیات کی تفسیر و تشریح 0
Related Topics متعلقه موضوعات