کیا فرماتےہیں علماءِ کرام و مفتیان عظام درج ذیل مسائل کے بارے میں کہ:
۱۔ آغاخانی /اسماعیلی لوگ کے بارے میں کیا حکم ہے، آیا یہ لوگ مسلمان ہیں یا نہیں؟
۲۔ یہ لوگ اگر ہمارے ساتھ ادارے میں کام کرتے ہیں تو ان کے ساتھ ہمارا کیا سلوک اور معاملہ ہونا چاہیے؟ مثلاً ان کو سلام کرنا ، ان کے سلام کا جواب دینا ، ان کی عیادت کرنا ، ان کے جنازہ میں شرکت کرنا وغیرہ امور میں کیا احکام ہیں؟
۳۔ کیا ان سے کسی بھی صورت میں نکاح جائز ہے؟ اور اگر کسی نے کر لیا ہو تو وہ اب کیا کرے؟جواب دے کر مستفید فرمائیں۔
فرقہ آغانی خانی اور اسماعیلی اپنے عقائدِ باطلہ کی وجہ سے باجماعِ امت کافر و زندیق اور دائرۂ اسلام سے خارج ہے ان کے ساتھ باہم مناکحت یا دیگر گھریلو معاملات و تعلقات قائم کرنا جائز نہیں، اس سے احتراز لازم ہے اور اگرلاعلمی اور نادانی کی بناء پر کسی مسلمان سنی العقیدہ کا ان کے ساتھ نکاح ہو چکا ہو تو یہ شرعاً منعقد نہیں ہوا، فوری طور پر علیحدگی واجب ہے۔
اور اگر ان کے ساتھ دفتری ملازمت وغیرہ کی بناء پر کبھی کبھار اکٹھے کھانا کھانا پڑجاتا ہو تو اس کی گنجائش ہے، مگر اسے معمول بنانے سے احتراز لازم ہے ، اسی طرح بحیثیت ایک انسان ہونے کے ان کے عیادت جائز ہے، مگر جب اپنے متہم ہونے کا اندیشہ ہو تو احتراز چاہیے۔
اور اگر یہ خود پہلے سلام کر دیں تو جواب میں فقط ’’و علیک‘‘ کہنا کافی ہے، ورنہ خود سے انہیں سلام کرنے سے بھی احتراز لازم ہے۔
ففی تفسير روح المعاني: ﴿وَ لا تُنْكِحُوا الْمُشْرِكِينَ حَتَّى يُؤْمِنُوا﴾ أي لا تزوجوا الكفار من المؤمنات سواء كان الكافر كتابيا أو غيره و سواء كانت- المؤمنة أمة- أو حرة۔(1/ 513)۔
و فی حاشية ابن عابدين: أن الرافضي إن كان ممن يعتقد الألوهية في علي، أو أن جبريل غلط في الوحي، أو كان ينكر صحبة الصديق، أو يقذف السيدة الصديقة فهو كافر لمخالفته القواطع المعلومة من الدين بالضرورة(3/ 46)۔
ففی حاشية ابن عابدين: (قوله و جاز عيادته) أي عيادة مسلم ذميا نصرانيا أو يهوديا، لأنه نوع بر في حقهم و ما نهينا عن ذلك، و صح أن النبي الله «عاد يهوديا مرض بجواره» هداية(6/ 388)۔
و فی الفتاوى الهندية: و ذكر القاضي الإمام ركن الإسلام علي السغدي أن المجوسي إذا كان لا يزمزم فلا بأس بالأكل معه و إن كان يزمزم فلا يأكل معه لأنه يظهر الكفر و الشرك و لا يأكل معه حال ما يظهر الكفر و الشرك و لا بأس بضيافة الذمي و إن لم يكن بينهما إلا معرفة كذا في الملتقط.و في التفاريق لا بأس بأن يضيف كافرا لقرابة أو لحاجة كذا في التمرتاشي. (5/ 347)۔
ففی الدر المختار: و لو سلم يهودي أو نصراني أو مجوسي على مسلم فلا بأس (و) لكن (لا يزيد على قوله و عليك) كما في الخانية(6/ 412)۔