آیات کی تفسیر و تشریح

کیا نمازِ جمعہ کے بعد فضائل اعمال کی تعلیم کا حلقہ لگانا ’’ فاذا قُضیت الصلاۃ فانتشروا فی الارض‘‘ کی خلاف ورزی ہے؟

فتوی نمبر :
60686
| تاریخ :
2009-02-01
قرآن و حدیث / تفسیر و احکام القرآن / آیات کی تفسیر و تشریح

کیا نمازِ جمعہ کے بعد فضائل اعمال کی تعلیم کا حلقہ لگانا ’’ فاذا قُضیت الصلاۃ فانتشروا فی الارض‘‘ کی خلاف ورزی ہے؟

مفتی صاحب ! ہمارا گاؤں چونکہ دیہات میں واقع ہے ، گاؤں کی آبادی مکمل طور پر منتشر ہے ، نمازِ جمعہ کے علاوہ کوئی بھی ایسی ممکنہ صورت نہیں کہ لوگوں کو درس یا فضائلِ اعمال کی تعلیم و تبلیغ کے لیے جمع کیا جا سکتا ہو ، اس وجہ سے مقامی طور پر تبلیغی جماعت کے ساتھیوں نے باہم مشورے اور رائیونڈ کے بزرگوں کی رہنمائی سے جمعہ کی نماز کے بعد مختصراً فضائلِ اعمال کی تعلیم اور جماعتوں کی نقل و حمل کے لیے ترتیب شروع کی ہوئی ہے، جیسا کہ عام معمول کے مطابق ساتھی فضائلِ اعمال لے کر بیٹھ جاتے ہیں اور چند لوگوں جو اپنی مرضی اور فراغت سے تعلیم میں بیٹھنا چاہیں، بیٹھ جاتے ہیں ، کیا شریعت اسلامیہ کی روشنی میں ایسے طریقۂ تعلیم میں کوئی قباحت پائی جاتی ہے، کیونکہ مقامی علماء کا کہنا یہ ہےکہ یہ طریقۂ تعلیم قرآن کی آیت: ’’فاذا قُضیت الصلاۃ فانتشروا فی الارض الخ ‘‘کی تصریح کی خلاف ورزی ہے ، قرآن و سنت کی روشنی میں اس کا حل کیا ہو سکتا ہے اور علماء جو کہ مقامی ہیں اُن کے قول کی کیا حیثیت ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

’’فاذا قُضیت الصلاۃ فانتشروا فی الارض‘‘ میں مذکور امر،امرِ وجوبی نہیں کہ فرض نماز کا سلام پھیرتے ہی مسجد سے فوراً نکلنا لازم ہو، بلکہ یہ امرِ اباحت ہے جیسا کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے اس آیتِ کریمہ کی تفسیر میں فرمایا اور تمام اصولیین کا اس پر اتفاق ہے ، اس لیے مذکور علماءِ کرام کو چاہیے کہ اس آیت کو بنیاد بنا کر باہمی اختلاف سے اجتناب فرمائیں۔
جبکہ کسی بھی نماز کے بعد فضائلِ اعمال کی تعلیم یا درسِ قرآن و حدیث و غیرہ دینا بلاشبہ جائز اور درست ہے ، اس میں شرعاً کوئی قباحت نہیں، مگر اس سلسلے میں دیگر نمازیوں اور عبادات میں مشغول افراد کا خیال رکھنا چاہیے تاکہ ان کی عبادات میں خلل نہ ہو۔

مأخَذُ الفَتوی

ففی تفسير الخازن: ﴿فَإِذا قُضِيَتِ الصَّلاةُ فَانْتَشِرُوا فِي الْأَرْضِ وَ ابْتَغُوا مِنْ فَضْلِ اللَّهِ وَ اذْكُرُوا اللَّهَ كَثِيراً لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ (10) وَ إِذا رَأَوْا تِجارَةً أَوْ لَهْواً انْفَضُّوا إِلَيْها وَ تَرَكُوكَ قائِماً قُلْ ما عِنْدَ اللَّهِ خَيْرٌ مِنَ اللَّهْوِ وَ مِنَ التِّجارَةِ وَ اللَّهُ خَيْرُ الرَّازِقِينَ﴾ (11)۔
قوله عز وجل: فَإِذا قُضِيَتِ الصَّلاةُ فَانْتَشِرُوا فِي الْأَرْضِ أي إذا فرغ من صلاة الجمعة فانتشروا في الأرض للتجارة و التصرف في حوائجكم وَ ابْتَغُوا مِنْ فَضْلِ اللَّهِ يعني الرزق و هذا أمر إباحة قال ابن عباس إن شئت فاخرج و إن شئت فاقعد و إن شئت فصل إلى العصر(4/ 294)۔
و فی أحكام القرآن للطحاوي: قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: ﴿فَإِذَا قُضِيَتِ الصَّلاةُ فَانْتَشِرُوا فِي الأَرْضِ﴾ أَجْمَعَ أَهْلُ الْعِلْمِ أَنَّ ذَلِكَ عَلَى الْإِبَاحَةِ مِنَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ لَهُمْ مَا قَدْ كَانَ حَظَرَهُ عَلَيْهِمْ وَ مَنَعَهُمْ مِنْهُ قَبْلَ ذَلِكَ وَ أَنَّ هَذَا كَقَوْلِهِ: ﴿وَ إِذَا حَلَلْتُمْ فَاصْطَادُوا﴾، وَ قَوْلِهِ: ﴿فَكُلُوا مِنْهَا وَ أَطْعِمُوا﴾ وَ سَنَأْتِي بِذَلِكَ بِمَا قَدْ رُوِيَ فِيهِ عَنْ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي مَوَاضِعِهِ مِنْ كِتَابِنَا هَذَا إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى(1/152، 153)۔
و فی أحكام القرآن للجصاص: تحت قوله: ﴿فإذا قضيت الصلاة فانتشروا في الأرض و ابتغوا من فضل الله﴾ (الجمعة: 10)، و قوله: ﴿و إذا حللتم فاصطادوا﴾ (المائدة: 2)، و نظائر ذلك من الإباحة الواردة بعد الحظر، فيكون حكم اللفظ مقصورا على الإباحة لا على الإيجاب و لا الندب. (1/ 277)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 60686کی تصدیق کریں
0     1251
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • مافی الارحام کی تشریح

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   آیات کی تفسیر و تشریح 0
  • آیت تطہیر کن مبارک ہستیوں کے بارے میں نازل ہوئی؟ اور اہل بیت میں شامل افراد

    یونیکوڈ   آیات کی تفسیر و تشریح 0
  • سورۃ مائدہ کی آیت نمبر ۴۴ اور ۶۳ میں ’’احبار‘‘ اور ربانییون‘‘ سے کیا مراد ہے؟

    یونیکوڈ   آیات کی تفسیر و تشریح 0
  • سورۃ رحمٰن کی آیت نمبر 2 اور 3 میں کس قرآن کا ذکر ہے؟

    یونیکوڈ   آیات کی تفسیر و تشریح 0
  • تفسیرِ کا اہل کون ؟

    یونیکوڈ   آیات کی تفسیر و تشریح 1
  • ’’قد جاءکم من اللہ نور ‘‘سے آپﷺ کونور سے ثابت کرنا

    یونیکوڈ   آیات کی تفسیر و تشریح 0
  • سورۃ الأنبیاء کی آیت نمبر ۱۰۴ اور ۱۰۵ کی وضاحت

    یونیکوڈ   آیات کی تفسیر و تشریح 0
  • اللہ تعالیٰ کا اپنے حبیب پر درود بھیجنے کا مطلب

    یونیکوڈ   آیات کی تفسیر و تشریح 0
  • الٹراساؤنڈ کے ذریعہ بچہ کی جنس کا علم ہو جانا

    یونیکوڈ   آیات کی تفسیر و تشریح 0
  • عذاب نازل شدہ مقامات کی زیارت کرنا

    یونیکوڈ   آیات کی تفسیر و تشریح 0
  • سورۃ بقرہ آیت نمبر ۶۲ اور سورۃ مائدہ آیت نمبر ۶۹ کی تفسیر ی وضاحت

    یونیکوڈ   آیات کی تفسیر و تشریح 0
  • ولی کی اجازت کے بغیر نکاح سے متعلق آیت قرآنی اور حدیث میں تعارض کا دفعیہ

    یونیکوڈ   آیات کی تفسیر و تشریح 0
  • آیت ’’وَوَجَدَک عائِلًا فَأَغْنی‘‘ کی تفسیر

    یونیکوڈ   آیات کی تفسیر و تشریح 1
  • ’’القاہا إلی مریم و روح منہ‘‘ کی تفسیر

    یونیکوڈ   آیات کی تفسیر و تشریح 0
  • ہفتہ کے دن شکار سے مطلق علیحدہ رہنے والی تیسری جماعت کے ساتھ کیا معاملہ ہوا؟

    یونیکوڈ   آیات کی تفسیر و تشریح 0
  • ’’ القرآن اکیڈمی‘‘ میں تفسیر پڑھنا

    یونیکوڈ   آیات کی تفسیر و تشریح 0
  • سورۃ ہود کی آیت نمبر۱۰۷ اور ۱۰۸ کی وضاحت

    یونیکوڈ   آیات کی تفسیر و تشریح 0
  • آیت ﴿ و مکروا ومکراللہ﴾ کے ترجمہ سے متعلق ایک اشکال

    یونیکوڈ   آیات کی تفسیر و تشریح 0
  • ’’حضورؐ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں‘‘ کا مطلب

    یونیکوڈ   آیات کی تفسیر و تشریح 0
  • ’’أن لیس للانسان إلا ماسعیٰ‘‘ اور احادیث میں ظاہری تعارض کا دفعیہ

    یونیکوڈ   آیات کی تفسیر و تشریح 0
  • ’’قوّامون‘‘ کا ترجمہ ’’حاکم‘‘ سے کرنا -اسلام میں مرد و عورت کی برابری کا تصور

    یونیکوڈ   آیات کی تفسیر و تشریح 0
  • ہاروت و ماورت نامی فرشتوں کو اللہ نے مخصوص کام کیلئے زمین پر مبعوث فرمایا

    یونیکوڈ   آیات کی تفسیر و تشریح 0
  • ’’الولد للفراش‘‘ اور ’’وَجَعَلْنا مِنَ الْماءِ کلَّ شَیءٍ حَیّ‘‘ میں ظاہری تعارض اور اس کا دفعیہ

    یونیکوڈ   آیات کی تفسیر و تشریح 0
  • ’’ہر چیز نے اپنے اصل کی طرف جانا ہے‘‘ کا مطلب

    یونیکوڈ   آیات کی تفسیر و تشریح 0
  • معوّذتین کے شانِ نزول(نبی ﷺ پر جادو)کےمنکر کا حکم

    یونیکوڈ   آیات کی تفسیر و تشریح 0
Related Topics متعلقه موضوعات