کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص جو کسی مدرسے سے فارغ التحصیل بھی نہیں ہے عام دنیاوی تعلیم حاصل کی ہے، اس نے قرآن مجید کی آیت کریمہ’’تلک الرسل فضلّنا بعضہم علی بعض‘‘ کی تشریح عید کے اجتماع میں اس طرح بیان کی کہ اللہ تعالیٰ بڑے حسین ہیں اور اللہ کے ساتھ بہت سے لوگوں نے عشق کا دعویٰ کیا ، ان میں سب سے پہلے آدمؑ میدان میں اترے، لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کو بھی رجیکٹ (RAJECT) کر دیا، پھر نوحؑ نے دعویٰ کیا، اللہ تعالیٰ نے ان کو بھی رجیکٹ کر دیا۔
آیا یہ تشریح قرآن و سنت کی روشنی میں جائز ہے یا نہیں؟ ایسی تشریح سے نعوذ باللہ آدمؑ اور نوحؑ کی نبوت سے انکار لازم آتا ہے، لہٰذا اب ان صاحب کے بارےمیں کیا حکم ہے؟ ان کے پیچھے نماز ادا کرنا اور ان کے ساتھ تعلقات رکھنا کیسا ہے؟
سوال میں مذکور بیان اگر واقعۃً بھی درست اور حقیقت پر مبنی ہو اور اس میں کسی قسم کی غلط بیانی کا سہارا نہ لیا گیا ہو تو شخصِ مذکور، انبیاءِ کرام کے حق میں انتہائی نازیبا اور توہین آمیز کلمات پر مشتمل تفسیر بیان کرنے کی وجہ سے بہت سخت گنہگار ہوا ہے ، اس لیے اس پر دو امور لازم ہیں اولاً: یہ کہ اپنے اس گناہ پر بصدقِ دل توبہ و استغفار کرے اور ثانیاً: یہ کہ آئندہ کے لیے بِلاتحقیق اور اس قسم کی تشریحات جن سے مسلمانوں کی دل آزاری ہوتی ہو بیان کرنے سے مکمل احتراز کرے، نیز محض لوگوں کی واہ واہ کے لیے اپنی آخرت کو تباہ کرنے سے بھی احتراز کرے ، اب اگر وہ اپنی من گھڑت اور بے بنیاد تشریحات و تفاسیر بیان کرنے سے احتراز نہ کرے تو علاقہ کے خواص و عوام اس کے خلاف قانونی چارہ جوئی بھی کر سکتے ہیں اور جب تک وہ اپنی ان ناجائز تشریحات سے باز نہ آئے اس وقت تک اس کی اقتداء میں نماز پڑھنے سے احتراز کیا جائے اور یہی حکم اس کے ساتھ تعلقات رکھنے کا بھی ہے۔
ففی مشكاة المصابيح: و عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم - : «من أفتى بغير علم كان إثمه على من أفتاه و من أشار على أخيه بأمر يعلم أن الرشد في غيره فقد خانه» . رواه أبو داود(1/ 81)۔
و فیه أیضاً: و عن ابن عباس قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم - : «من قال في القرآن برأيه فليتبوأ مقعده من النار» . و في رواية: «من قال في القرآن بغير علم فليتبوأ مقعده من النار» رواه الترمذي(1/ 79)۔
و فی الدر المختار: (و يكره إمامة عبد و أعرابي و فاسق و أعمى إلا أن يكون أعلم القوم و مبتدع )أي صاحب بدعة و هي اعتقاد خلاف المعروف عن الرسول(1/ 559،560)۔
و فی حاشية ابن عابدين: و أما الفاسق فقد عللواكراهة تقديمه بأنه لا يهتم لأمر دينه، و بأن في تقديمه للإمامة تعظيمه، و قد وجب عليهم إهانته شرعا، و لا يخفى أنه إذا كان أعلم من غيره لا تزول العلة، فإنه لا يؤمن أن يصلي بهم بغير طهارة فهو كالمبتدع تكره إمامته بكل حال (1/ 560)۔
آیت تطہیر کن مبارک ہستیوں کے بارے میں نازل ہوئی؟ اور اہل بیت میں شامل افراد
یونیکوڈ آیات کی تفسیر و تشریح 0سورۃ مائدہ کی آیت نمبر ۴۴ اور ۶۳ میں ’’احبار‘‘ اور ربانییون‘‘ سے کیا مراد ہے؟
یونیکوڈ آیات کی تفسیر و تشریح 0ولی کی اجازت کے بغیر نکاح سے متعلق آیت قرآنی اور حدیث میں تعارض کا دفعیہ
یونیکوڈ آیات کی تفسیر و تشریح 0ہفتہ کے دن شکار سے مطلق علیحدہ رہنے والی تیسری جماعت کے ساتھ کیا معاملہ ہوا؟
یونیکوڈ آیات کی تفسیر و تشریح 0’’قوّامون‘‘ کا ترجمہ ’’حاکم‘‘ سے کرنا -اسلام میں مرد و عورت کی برابری کا تصور
یونیکوڈ آیات کی تفسیر و تشریح 0ہاروت و ماورت نامی فرشتوں کو اللہ نے مخصوص کام کیلئے زمین پر مبعوث فرمایا
یونیکوڈ آیات کی تفسیر و تشریح 0’’الولد للفراش‘‘ اور ’’وَجَعَلْنا مِنَ الْماءِ کلَّ شَیءٍ حَیّ‘‘ میں ظاہری تعارض اور اس کا دفعیہ
یونیکوڈ آیات کی تفسیر و تشریح 0