ایام ہوئے تیرہ دن ہوگئے ہیں، اس حالت میں نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں اگر ہے تو اس کا طریقہ کیا ہونا چاہئے؟
سائلہ کو اگر اپنے حیض کے ایام کا علم ہو یعنی اس کی کوئی عادت متعین ہو اور اب ان ایامِ حیض کے بعد بھی خون آنے کا سلسلہ جاری ہو تو ایسی صورت میں سائلہ کے حیض کے جو ایام تھے اس میں نماز پڑھنا تو جائز نہیں تھا اور اس کا اعادہ بھی لازم نہیں البتہ اس کے بعد آنےوالا خون چونکہ استحاضہ کا ہے، اس لئے اس دوران جتنے دن سائلہ نے نماز نہیں پڑھی ان نمازوں کی قضاء کرنا اور آئندہ کیلئے ایامِ حیض کے علاوہ باقی ایام میں نماز پڑھنا لازم اور ضروری ہوگا، جبکہ اس کا طریقہ کار یہ ہے کہ سائلہ حیض سے پاک ہونے کیلئے غسل کرے اس کے بعد اگر سائلہ کو خون اس تسلسل سے آرہا ہو کہ اسے اتنا وقت بھی نہ ملے جس میں وہ کامل طہارت کے ساتھ وقتیہ فرض نماز ادا کرسکے تو اس صورت میں شرعاً وہ معذور کے حکم میں داخل ہوجائے گی اور تفصیل اس حکم کی یہ ہے کہ مثلاً ادائیگئِ ظہر کے لئے وہ ظہر کے شروع وقت سے اخیر وقت تک انتظار کرے اگر اسے اس دوران اتنا وقت نہ ملے کہ وہ کامل طہارت کے ساتھ نماز ظہر ادا کرسکے تو عصر کا وقت داخل ہونے سے قبل ظہر کے اخیر وقت میں وضو کرکے فقط فرضِ ظہر ادا کرے، اسی طرح ہر نماز میں ایسا ہی کرے کہ ہر نماز کیلئے الگ الگ وضو کرلیا کرے، اس پورے وقت میں اگر اس کے علاوہ کوئی دوسرا ناقض وضو نہ پایا گیا ہو تو مذکورہ عذر کے بار بار صادر ہونے سے اس کا وضو نہیں ٹوٹے گا، البتہ اس دوران اگر پورا وقت ایسا گزر جائے کہ اس پورے وقت میں یہ عذر اُسے ایک مرتبہ بھی لاحق نہ ہوا ہو تو شرعاً وہ معذور نہیں رہے گی، لہٰذا اس مسئلہ کو اچھی طرح سمجھ کر اس کےموافق عمل کی اشد ضرورت ہے۔
کما فی الفتاویٰ الھندیة: والحائض إذا لم تجد علیہ أثر الدم حکم بالانقطاع من حین الوضو، ھکذا فی شرح الوقایة. (ج۱، ص۳۶)
وفیہ ایضًا: وأقل الطھر خمسة عشر یوما ولا غایة لأکثرة إلا إذا احتیج إلی نصب العادة. (ج۱، ص۳۷)
وفی الھدایة فی شرح بدایةالمبتدی: وأقل الطھر خمسة عشر یومًا ''ھکذا نقل عن إبراھیم النخعی وأنہ لا یعرف إلا توقیفا'' ولا غایة لأکثرہ ''لأنہ یمتد إلی سنة وسنتین فلا یتقدر بتقدیر إلا إذا استمر بھا الدم فاحتیج إی نصب العادة ویعرف ذلک فی کتاب الحیض. (ج۱، ص۳۴)
وفی الدر: (وصاحب عذر من بہ سلس) بول لا یمکنہ إمساکہ (أو استطلاق بطن أو انفلات ریح أو استحاضة) أو بعینہ رمد أو عمش أو غرب، وکذا کل ما یخرج بوجع ولو من أذن وثدی وسرة (إن استوعب عذرہ تمام وقت صلاة مفروضة) بأن لا یجد فی جمیع وقتھا زمنا یتوضأ ویصلی فیہ خالیا عن الحدث (ولو حکما) لأن الانقطاع الیسیر ملحق بالعدم (وھذا شرط) العذر (فی حق الابتداء، وفی) حق (البقاء کفی وجودہ فی جزء من الوقت) ولو مرة (وفی) حق الزوال یشترط (استیعاب الانقطاع) تمام الوقت (حقیقة) لأنہ الانقطاع الکامل (وحکمہ الوضوء) لا غسل ثوبہ الخ (ج۱، ص۳۰۵)
مانعِ حیض ادویات کے استعمال کےباوجود خون آجائے تو نماز وغیرہ کا حکم
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 1محرم عورت سے(العیاذ باللہ) زنا کا حکم-حیض سے پاکی کے بعد استنجا کا طریقہ
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0زیورات اُتارنے کے بعد دورانِ غسل ناک اور کان کے سوراخوں میں خلال کرنا
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0مخصوص ایّام میں اُوڑھے ہوئے دوپٹہ سے قرآن کو پکڑنا جائز ہے یا نہیں؟
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0ایامِ حیض (عورتوں کی ناپاکی کے مخصوص ایام)میں،معلمہ یا طالبہ کا قرآن پڑھنا پڑھانا
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0رمضان میں بچہ کی ولادت کے بعد دس دن خون آئے تو باقی ایّام کے روزے رکھ سکتی ہے یانہیں؟
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0