مفتی صاحب میرا سوال یہ ہے کہ حیض کے سات دن ختم ہو جانے کے بعد بیوی کے نہانے سے پہلے میاں بیوی ازدواجی تعلقات کام کرسکتے ہیں۔ اور اگلے روز بیوی مکمل غسل کرلے یہ جائز ہے اور اگر ناجائز ہے تو اس کے کس قسم کے نقصانات رزق ‘روزی پر تو نہیں پڑتے۔ میری مکمل رہنمائی فرمائیں۔ شکریہ
واضح ہوکہ اگر عورت کی عادت دس دن سے کم کی ہو اور حیض کا خون عادت پر بند ہوجائے تو جب تک عورت غسل کرکے پاک نہ ہوجائے، تب تک شوہر کے لئے اس کے ساتھ ہمبستری کرنا شرعاً درست نہیں،اگر غسل نہ کرے،لیکن اس پر ایک نماز کا مکمل وقت گذر جائے اور نماز کی قضاء اس کے ذمہ لازم ہوجائے،یعنی خون ایسے وقت بند ہوکہ جس میں غسل کے بعد کپڑے پہن کر صرف تکبیر تحریمہ کہہ سکے تو ایسی صورت میں نماز کا وقت گزرنے کے بعد بغیر غسل کیے بھی ہمبستری کرنا شرعاً جائز ہے،البتہ اس صورت میں بھی ہمبستری سے قبل غسل کرلینا بہتر ہے۔
کما قال اللہ تعالیٰ: وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ قُلْ هُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ وَلَا تَقْرَبُوهُنَّ حَتَّى يَطْهُرْنَ فَإِذَا تَطَهَّرْنَ فَأْتُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ أَمَرَكُمُ اللَّهُ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ (البقرۃ: 222 الآیة)۔
وفی رد المحتار: اعلم أنه إذا انقطع دم الحائض لأقل من عشرة وكان لتمام عادتها فإنه لا يحل وطؤها إلا بعد الاغتسال أو التيمم بشرطه كما مر؛ لأنها صارت طاهرة حقيقة أو بعد أن تصير الصلاة دينا في ذمتها، وذلك بأن ينقطع ويمضي عليها أدنى وقت صلاة من آخره، وهو قدر ما يسع الغسل واللبس والتحريمة اھ(1/295)۔
مانعِ حیض ادویات کے استعمال کےباوجود خون آجائے تو نماز وغیرہ کا حکم
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 1محرم عورت سے(العیاذ باللہ) زنا کا حکم-حیض سے پاکی کے بعد استنجا کا طریقہ
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0زیورات اُتارنے کے بعد دورانِ غسل ناک اور کان کے سوراخوں میں خلال کرنا
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0مخصوص ایّام میں اُوڑھے ہوئے دوپٹہ سے قرآن کو پکڑنا جائز ہے یا نہیں؟
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0ایامِ حیض (عورتوں کی ناپاکی کے مخصوص ایام)میں،معلمہ یا طالبہ کا قرآن پڑھنا پڑھانا
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0رمضان میں بچہ کی ولادت کے بعد دس دن خون آئے تو باقی ایّام کے روزے رکھ سکتی ہے یانہیں؟
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0