میرے شوہر نے میری والدہ کے بہکاوے میں آکر , مجھے تین بار ایک ساتھ طلاق ادا کر دی اپنی زبان سے , تو کیا میری طلاق ہوگئی ہے ؟ اس بات کو سات ماہ کا عرصہ گزر چکا ہے تو کیا مجھے عدت کرنی پڑے گی ؟
سوال میں ذکر کردہ وضاحت اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو اس میں کسی بھی قسم کی غلط بیانی اور دروغ گوئی سے کام نہ لیا گیا ہو اس طور پر کہ سائلہ کے شوہر نے سات ماہ پہلے صریح الفاظ میں سائلہ کو تین طلاقیں دی ہوں تو اس سے سائلہ پر تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے، لہذا اب رجوع نہیں ہو سکتا اور نہ ہی بغیر حلالۂ شرعیہ کے دوبارہ باہم عقدِ نکاح ہو سکتا ہے ، جبکہ سائلہ ایامِ عدت کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے، چنانچہ تین طلاقوں کے بعد اگر سائلہ نے اپنے شوہر سے علیحدگی اختیار کر لی تھی اور اس کے بعد ( عرصہ سات ماہ میں ) سائلہ کی تین ماہواریاں مکمل ہو چکی ہوں تو اس سے سائلہ کی عدت پوری ہو چکی ہے ، اب سائلہ کے ذمہ دوبارہ عدت لازم نہ ہو گی۔
كما في القرآن المجيد :فان طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره ۔(البقرة: 230) -
وفي الصحيح للامام البخاري : قال الليث حدثنى نافع قال كان ابن عمر اذا سئل عمن طلق ثلاثا قال لو طلقت مرة او مرتين فان النبي امرني بهذا لو طلقتها ثلاثا حرمت حتى تنکح زوجا غيرک (7/5)۔
وفى الهندية :واما البدعى فنوعان بدعى لمعنى يعود الى العدد وبدعى لمعنی يعود الى الوقت فالذي يعود الى العدد ان يطلقها ثلاثا في طهر واحد او بكلمات متفرقة او يجمع بين التطلقتين في طهر واحد بكلمة واحدة او بكلمتين متفرقتين فاذا فعل ذلك وقع الطلاق وكان عاصیا - (321/1)
حنفی کا تین طلاق دینے کے بعد غیر مقلدین کے فتوی پر عمل کرنے پر اصرارکرنا
یونیکوڈ حلالہ اور طلاق مغلظہ 0