السلام علیکم
گذارش ہے کہ فضائلِ اعمال میں سورتِ فاتحہ کا وظیفہ لکھا ہے ، جو فجر کی سنتوں کے بعد اور فرض سے پہلے 40 دن کرنا ہے , مستورہ اس عمل کو کر رہی ہو اور مخصوص ایام آ جائیں تو کیا کرے؟
جسمانی عذر کی وجہ سے مرد مسجد میں با جماعت نہ جا سکے تو کیا گھر میں فجر پڑھنے سے سورتِ فاتحہ کا وظیفہ اثر کرے گا؟کیا اس کے لئے جماعت کی نماز شرط ہے؟ و السلام
واضح ہو کہ حیض کے دوران عورت کیلئے تلاوت کرنا شرعاً جائز نہیں،البتہ اگر وہ قرآںی آیات وغیرہ جو حمد و ثنا یا دعائیہ کلمات پر مشتمل ہوں جیسے کہ سورتِ فاتحہ تو انہیں وظیفہ یا دعا کےطور پر پڑھے تو وہ پڑھ سکتی ہے،لہذا سوال میں مذکور خاتون اگر مذکور وظیفہ کرنا چاہے تو کرسکتی ہے وہ سورۂ فاتحہ پڑھتے وقت وظیفہ کی نیت کرے , تلاوت کی نیت سے نہ پڑھے ، جبکہ اگر مرد کسی عذرِ شرعی کی وجہ سے مسجد نہیں جاسکتا تو وہ گھر میں ہی مذکور وظیفہ کرسکتاہے مذکور وظیفہ کیلئے باجماعت نماز پڑھنا کوئی شرط نہیں -
مانعِ حیض ادویات کے استعمال کےباوجود خون آجائے تو نماز وغیرہ کا حکم
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 1محرم عورت سے(العیاذ باللہ) زنا کا حکم-حیض سے پاکی کے بعد استنجا کا طریقہ
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0زیورات اُتارنے کے بعد دورانِ غسل ناک اور کان کے سوراخوں میں خلال کرنا
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0مخصوص ایّام میں اُوڑھے ہوئے دوپٹہ سے قرآن کو پکڑنا جائز ہے یا نہیں؟
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0ایامِ حیض (عورتوں کی ناپاکی کے مخصوص ایام)میں،معلمہ یا طالبہ کا قرآن پڑھنا پڑھانا
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0رمضان میں بچہ کی ولادت کے بعد دس دن خون آئے تو باقی ایّام کے روزے رکھ سکتی ہے یانہیں؟
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0