علماء میں سے ایک شخص واضح طور پر شرح العقائد النسفی، شرح المواقف شرح المقاصد کو رد کرتا ہے اور کہتا ہے کہ صاحب شرح العقائد النسفيہ ضال اور مضل ہے اور وہ کتاب فلسفی اور منطقی نظریات پر مشتمل ہے۔ اس بارے میں آپ کی رائے اور نظریہ کیا ہے؟ کیا یہ کتابیں معتبر مستند ہیں ؟
سائل نے سوال میں اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ مذکور شخص "شرح العقائد النسفیہ ، شرح المواقف اور شرح المقاصد پر کس بنیاد پر رد کرتا ہے اور ان کے مصنفین کو کس وجہ سے "ضال و مضل " قرار دے رہا ہے ، تاہم مذکور کتا بیں اہلسنت والجماعت کے بنیادی عقائد اور مجموعی اعتبار سے مفید ابحاث پر مشتمل ہیں، جس میں فلسفیانہ اور منطقی انداز میں باطل عقائد کی تردید اور صحیح اور درست عقائد کا اثبات کیا گیا ہے۔ لہذا کسی معقول وجہ کے بغیر محض منطقانہ اور فلسفیانہ ابحاث و نظریات پر مشتمل ہونے کی وجہ سے یا کسی جزوی بحث کی وجہ سے ان کتابوں پر تنقید کرنا اوران کے مصنفین کو ضال و مضل قرار دینا انتہائی نامناسب عمل ہے، جس سے اجتناب کرنا چاہیے ۔ واللہ اعلم بالصواب