اگر ایک عورت کو شک ہے کہ: اس کا شوہر قوم لوط والا عمل کر رہا ہے ،تو کیا وہ اس پر نظر رکھ سکتی ہے؟ اور اگر وہ اس کو یہ عمل کرتا دیکھ لے، تو ایسی صورت میں اسے کیا کرنا چاہیے ؟ کیا شوہر یہ عمل کرنے سے کافر ہو گیا؟ کیا نکاح باقی رہے گا؟
محض شک کی بنیاد پر عورت کا اپنے شوہر کو اس قبیح فعل میں ملوث سمجھنا اور اس کی ٹوہ میں لگنا تو درست نہیں ، جس سے احتراز لازم ہے، البتہ اگر کسی عورت کا شوہر واقعۃً اس قبیح فعل میں ملوث ہو، تو اس کی وجہ سے وہ گناہ گار ہو گا، جس پر اسے بصدق دل توبہ اور ستغفار اور آئندہ کے لیے بچنے کی مکمل کوشش کرنی چاہیے ، اور بیوی مناسب طریقے سے شوہر کو سمجھا کر اس فعل بد سے روکنے کی کوشش بھی کر سکتی ہے، تاہم فقط اس عمل کے ارتکاب کی وجہ سے شوہر کافر نہ ہو گا، اس لئے اس عمل کی وجہ سے میاں بیوی کے نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔