السلام علیکم، کیا ایک شخص اگر اپنا گھر بیچ رہا ہو 2 لاکھ میں اور وہ کسی دوسرے کو کہے کہ تم اس کو بیچ دو اور مجھے 2لاکھ دے دو اور اس کے بعد جو بھی بچے وہ تمہارے، کیا ایسا کرنا جائز ہے؟
سوال میں مذکور دوسرے شخص کی حیثیت چونکہ اول شخص کے اجیر کی ہے اور اجیر کی اجرت متعین ہونا ضروری ہے، ورنہ اجارہ فاسد ہوجاتا ہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں چونکہ مذکور دوسرے شخص کی اجرت متعین نہیں، بلکہ مجہول اور مبہم ہے، اس لئے سوال میں مذکور معاملہ شرعاً فاسد ہے، البتہ اس کی جائز صورت یہ ہے کہ دوسرے شخص کی ایک مخصوص اجرت متعین کی جائے(اگرچہ وہ بہت کم ہی کیوں نہ ہو) اس کے بعد بطورِ انعام اسے دولاکھ سے زائد ملنے والی رقم کی آفر بھی کی جائے، چنانچہ ایسا کرنے سے عقد بھی درست ہوگا اور دونوں کے مقاصد بھی پورے ہوجائے گے۔
لا بأس به وان کان فی الاصل فاسداً لکثرة التعامل وکثیر من ھذا غیر جائز، فجوزوہ لحاجة الناس الیه کدخول الحمام وعنه قال: رایت ابن شجاع یقاطع نساجاً ینسج له ثیاباً فی کل سنة اھ(6/63)۔
وفی الشامیة:وشرطها كون الأجرة والمنفعة معلومتين؛ لأن جهالتهما تفضي إلى المنازعة اھ(6/63)۔
ثم اعلم أن المعاملات على ما في كتب الأصول ثلاثة أنواع.
الأول: ما لا إلزام فيه كالوكالات والمضاربات والإذن بالتجارة، والثاني: ما فيه إلزام
محض كالحقوق التي تجري فيها الخصومات. والثالث: ما فيه إلزام من وجه دون وجه
كعزل الوكيل وحجر المأذون، فإن فيه إلزام العهدة على الوكيل وفساد العقد بعد
الحجر وفيه عدم إلزام، لأن الموكل أو المولى يتصرف في خالص حقه، فصار كالإذن. ففي الأول يعتبر التمييز فقط. وفي الثاني شروط الشهادة وفي الثالث إما العدد وإما العدالة عنده خلافا لهما فيتعين أن يراد هنا النوع الأول كما نبه عليه في العزمية اھ(6/643)۔
کمپنی کی طرف سےجہاز کے ٹکٹ کی مد میں ملنے والی رقم بچا کر ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ اجرت و کرایہ داری 0