میرے شوہر نے چار شادیاں کر رکھی ہیں، ایک بیوی کو طلاق دی سترہ جنوری 2020 کو باقاعدہ لکھ کر تین بار طلاق کا لفظ با قاعدہ ہوش و حواس میں یونین کونسل کے ذریعے دی، اس پر جامعہ نعیمیہ کا فتوی مہر کے ساتھ لگا ہوا ہے، مگر اس کے باوجود میرے شوہر اس کے ساتھ صلح کر کے باقاعدہ رہ رہے ہیں، جبکہ دو سال کہتے رہے کہ طلاق واقع ہو چکی ہے، مگر اب کہتے ہیں کہ نہیں ہوئی ہے طلاق، مجھے جواب چاہیے یہ کیا سین ہے، جبکہ ان کا مسلک اہل سنت و الجاعت کا ہے۔
سائلہ کا بیان اگر واقعہ درست اور مبنی بر حقیقت ہو، اس میں کسی بھی قسم کی غلط بیانی اور دروغ گوئی سے کام نہ لیا گیا ہو کہ سائلہ کے شوہر نے واقعۃً اپنی بیوی کو تحریری طور پر تین طلاقیں دیدی ہوں تو اس سے سائلہ کی مذکور سوکن پر تین طلاقیں واقع ہو کر حرمت مغلظہ ثابت ہو چکی ہے، جس کے بعد نہ رجوع ہو سکتا ہے اور نہ ہی بغیر حلالہ شرعیہ کے باہم عقد نکاح ہو سکتا ہے، جبکہ عورت ایام عدت کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے، لہذا سائلہ کا شوہر طلاق مغلظہ کے بعد اگر بغیر حلالہ شرعیہ کے اپنی مطلقہ بیوی کے ساتھ رہ رہا ہو تو اس کا یہ عمل شرعاً جائز نہیں، بلکہ حرام اور گناہ کبیرہ ہے، جس پر دونوں کو تو بہ و استغفار کرنا اور فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کرنا لازم ہے۔
كما في الدر المختار: كتب الطلاق، وإن مستبينا على نحو لوح وقع إن نوى، وقيل مطلقا، ولو على نحو الماء فلا مطلقا. ولو كتب على وجه الرسالة والخطاب، كأن يكتب يا فلانة: إذا أتاك كتابي هذا فأنت طالق طلقت بوصول الكتاب جوهرة. (3/ 246)
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله كتب الطلاق إلخ) قال في الهندية: الكتابة على نوعين: مرسومة وغير مرسومة، ونعني بالمرسومة أن يكون مصدرا ومعنونا مثل ما يكتب إلى الغائب. وغير المرسومة أن لا يكون مصدرا ومعنونا، وهو على وجهين: مستبينة وغير مستبينة، فالمستبينة ما يكتب على الصحيفة والحائط والأرض على وجه يمكن فهمه وقراءته. وغير المستبينة ما يكتب على الهواء والماء وشيء لا يمكنه فهمه وقراءته. ففي غير المستبينة لا يقع الطلاق وإن نوى، وإن كانت مستبينة لكنها غير مرسومة إن نوى الطلاق وإلا لا، وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو ثم المرسومة لا تخلو إما أن أرسل الطلاق بأن كتب: أما بعد فأنت طالق، فكما كتب هذا يقع الطلاق وتلزمها العدة من وقت الكتابة. (3/ 246)
و في الدر المختار : (والبدعي ثلاث متفرقة أو ثنتان بمرة أو مرتين)في طهر واحد (لا رجعة فيه، أو واحدة في طهر وطئت فيه) (إلی قوله) (وينكح مبانته بما دون الثلاث في العدة وبعدها بالإجماع) ومنع غيره فيها لاشتباه النسب (لا) ينكح (مطلقة) من نكاح صحيح نافذ كما سنحققه (بها) أي بالثلاث (لو حرة وثنتين لو أمة) ولو قبل الدخول، وما في المشكلات باطل، أو مؤول كما مر (حتى يطأها غيره ولو) الغير (مراهقا) (إلی قوله) (بنكاح تمضی عدته أی الثانی) اھ (3/ 409) واللہ اعلم بالصواب
حنفی کا تین طلاق دینے کے بعد غیر مقلدین کے فتوی پر عمل کرنے پر اصرارکرنا
یونیکوڈ حلالہ اور طلاق مغلظہ 0