کیا ایک سنت کو دوسری سنت پوری کرنے کے لیے ترک کردینا مناسب ہے، جیسا نکاح کے لیے داڑھی؟ بالخصوص جب پانچ چھ رشتوں میں انکار ہوجائے ، اور رشتہ مل بھی نہ رہاہو؟
واضح ہو کہ مردوں کے لیے ایک مشت داڑھی رکھنا شرعاً واجب ہے، داڑھی منڈاوانا یا کتر وانا قطعاً جائز نہیں ، جس سے بہر صورت اجتناب لازم ہے، لہذا سائل کو چاہیئے کہ اچھے رشتے کی تلاش جاری رکھے اور ساتھ ساتھ اللہ تعالی سے بھی دعا کرتا رہے ، انشاء اللہ امید ہے کہ کوئی اچھا رشتہ مل جائیگا۔
کما فی صحیح المسلم: حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَالِفُوا الْمُشْرِكِينَ أَحْفُوا الشَّوَارِبَ، وَأَوْفُوا اللِّحَى» (1/222 رقم الحدیث 259)۔
وفی الدرالمختار: أو تطويل اللحية إذا كانت بقدر المسنون وهو القبضة وصرح في النهاية بوجوب قطع ما زاد على القبضة بالضم، ومقتضاه الإثم بتركه لا أن يحمل الوجوب على الثبوت، وأما الأخذ منها وهي دون ذلك كما يفعله بعض المغاربة، ومخنثة الرجال فلم يبحه أحد، وأخذ كلها فعل يهود الهند ومجوس الأعاجم فتح. الخ(2/417)۔