اگر طہارت کے دس دن مکمل ہوگئے ہوں،اور لیکوریا کی رطوبت میں اگر براؤن کلر کے نقطے نظر آئیں یا اس کا رنگ گلابی ہو تو کیا وہ حیض شمار ہوگا؟ جبکہ اس طرح طہارت کے دنوں میں بھی کبھی کبھی ایسا ہوجاتا ہو،مجھے ماہواری 6 مارچ کو ختم ہوئی اور 14 مارچ سے لیکوریا میں کسی کسی وقت براؤن کلر یا گلابی رنگ نظر آیا ،جو آج 28 مارچ تک آرہا ہے،اب میں روزہ رکھوں یا چھوڑدوں؟ کیونکہ باقاعدہ ماہواری شروع ابھی تک نہیں ہوئی ہے،پچھلے مہینے 16 دن طہارت کے تھے۔
مزید وضاحت: میں پچھلے تقریبا 10 سالوں سے کثرت حیض کی بیماری کا شکار ہوں،13 سال کی عمر سے لیکر 30 سال کی عمر تک میرے ایام کے معمولات یوں تھے کہ 8،7 دن خون جاری ہوتا(حیض)اور پھر 21،20 دن طہر تام مکمل پاکی طہر صحیح کے ملے تھے،یہ مسئلہ 2012 سے شروع ہوا جب میں نے حمل ضائع ہونے کے بعد D&C (رحم کی صفائی) کے لیے ادویات استعمال کیا اور پھر جب ایام آئے تو خون تقریبا 16 دن جاری رہا پھر بمشکل 4،3 دن پاکی ملی اور پھر ایام کی تاریخ آنے پر دوبارہ خون جاری ہوگیا،پھر وہ دوبارہ 16 دنوں تک چلتا رہا، یہ سلسلہ اسی طرح کئی مہینوں تک چلتا رہا،اس وقت ایک عالمہ سے پوچھ کر میں نے ان کے کہنے پر دس دن حیض کے اور 15 دن طہر کے شمار کرنے شروع کیے،اور عبادات جاری کردی، کچھ عرصہ بعد جاری خون کی مدت کم ہوکر 16 سے 15 پھر 14اور 13 تک آگئی،پچھلے 5،4 سال سے حیض کی مدت 10،8 دن ہوگئی ہے،لیکن اس دوران کبھی بھی طہر تام نہیں ملتا،کبھی طہارت کے 12 دن بعد کبھی 13 دن بعد دھبے آنا شروع ہوجاتے ہیں ،اور کبھی طہر کے 15 دن مکمل نہیں ہوپاتے کہ دوبارہ خون جاری ہوجاتا ہے مجھے جو بیماری ہے اس میں خون کی شدت کو کم کرنے کے لیے ڈاکٹر نے مانع حمل کی دوائیاں استعمال کرنا شروع کی ہے، جس کی وجہ سے ایام میں بے قاعدگی آگئی ہے، مجھے کبھی بھی حیض رک رک کر نہیں آتا ،جب ایک مرتبہ خون جاری ہوتا ہے تو فل تیزی کے ساتھ 5 دنوں تک جاری رہتا ہےاور پھر آہستہ آہستہ 8دن یا 10 دنوں پر رکتا ہے، اس عالمہ کے بتائے ہوئے طریقے پر ابھی تک میری یہی عادت رہی ہے کہ طہارت کے 15 دن مکمل کرکے نماز، عبادات چھوڑدیتی ہوں کیونکہ اس کے اگلے روز 17،16 کو میرے ایام شروع ہوجاتے ہیں زندگی میں کبھی آج تک ایسا نہیں ہوا ہے کہ ماہانہ ایام نہ آئے ہوں سوائےجب حمل ٹھہرا تھا(اس وقت بھی شروع کے 3،2 ہفتے دھبے لگتے رہتے تھے)۔
براہ کرم مہربانی فرما کر اس مسئلے کی طرف توجہ فرما کر اس مسئلے کا حل بتائیں کہ مجھے کس طرح اور کتنے دن حیض اور طہارت کے شمار کرنے ہونگے ،کیونکہ پچھلے 10 سالوں سے یہی عادت ہے اور طہر ناقص ملتا ہے یا طہر فاسد ۔
براہ مہربانی جلد از جلد جواب ارسال فرما دیجیے ،تاکہ میں اپنی پچھلی نمازوں اور روزوں کو دہرا سکوں۔
صورتِ مسئولہ میں جب ابتداءً سائلہ کے ایامِ حیض اور ایامِ طہر متعین تھے ،لیکن حمل کی صفائی کے بعد انہیں ایامِ عادت (آٹھ دن)سے زائدخون جاری ہونا شروع ہوگیا ہے،اور کسی وقت بھی اسے کامل طہر یعنی پندرہ دن کی پاکی میسر نہیں ہوئی،تو ایسی صورت میں سائلہ کو چاہیے کہ وہ سابقہ عادت کے مطابق آٹھ دن حیض کے شمار کرکے بقیہ بائیس دن پاکی کے ایام کی طرح عبادات وغیرہ کی ادائیگی کا اہتمام کرتی رہا کرے،جبکہ گزرے ہوئے سالوں میں آٹھ دن کے بجائےدس دن حیض کے اور بائیس دن طہر کے بجائے پندرہ دن طہر کے سمجھ کر سائلہ نے ان دنوں فرض نمازیں ترک کی ہیں،تو اس کی وجہ سے گزشتہ دس سال کے عرصے کے ہر ماہ نو(9) دنوں کے حساب سے فوت شدہ نمازوں کی قضاء لازم ہوگی۔
کمافی الدر المختار: (واقل الطهر) بین الحیضتین او النفاس والحیض (خمسة عشر یومًا) ولیالیها اجماعًا (ولا حد لاكثره) وان استغرق العمر. اهـ (ج:1ص285)۔
وفی الفتاوی الهندیة: وان جاوز العشرة ففی المبتدأة حیضها عشرة ایام وفی المعتادة معروفها فی الحیض حیض والطهر طهر هكذا فی السراج الوهاج. اهـ (ج:۱، ص:۳۷)۔
وفیھا أیضاً: أن الطهر المتخلل بين الدمين إذا كان أقل من خمسة عشر يوما لم يفصل وكثير من المتأخرين أفتوا بهذه الرواية(إلی قوله) وإن جاوز العشرة ففي المبتدأة حيضها عشرة أيام وفي المعتادة معروفتها في الحيض حيض والطهر طهر. هكذا في السراج الوهاج اھ (1/ 37)۔
وفیها أیضاً: فإن رأت بين طهرين تامين دما لا على عادتها بالزيادة أو النقصان أو بالتقدم والتأخر أو بهما معا انتقلت العادة إلى أيام دمها حقيقيا كان الدم أو حكميا هذا إذا لم يجاوز العشرة فإن جاوزها فمعروفتها حيض وما رأت على غيرها استحاضة فلا تنتقل العادة هكذا في محيط السرخسي اھ(1/ 39)۔
وفی ذخر المتأهلین: والعادة تثبت بمرة واحدة فی الحیض والنفاس دما او طهرًا إن كان صحیحین وتنتقل كذالك زمانا بان لم ترفیه او طهرًا إن كان صحیحین وتنتقل كذالك زمانا بان لم ترفیه او رأت قبله. اهـ (۲۶)۔
وفیه ایضًا: والطهر التام طهر خمسة عشرة یومًا فصاعدًا. (۱۷)۔
وفی شرح ذخر المتأهلین للعلامة الشامی: واما المعتادة (فان رأت ما یوافقها) ای یوافق عادتها زمانا وعددا(فظاهر) ای كله حیض ونفاس (وان رأت ما یخالفها) فی الزمان او العدد او فیهما فحینئذٍ قد تنتقل العادة وقد لا تنتقل ویختلف حكم ما رأت (فتتوقف معرفته) ای معرفة حال ما رأت من الحیض والنفاس والاستحاضة (علی انتقال العادة فان لم تنتقل) كما اذا زاد علی العشرة او الاربعین (زدت الی عادتها) فیجعل المرئی فیها حیضًا او نفاسا (والباقی) ای ما جاوز منها استحاضة.اهـ (ص41)۔
مانعِ حیض ادویات کے استعمال کےباوجود خون آجائے تو نماز وغیرہ کا حکم
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 1محرم عورت سے(العیاذ باللہ) زنا کا حکم-حیض سے پاکی کے بعد استنجا کا طریقہ
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0زیورات اُتارنے کے بعد دورانِ غسل ناک اور کان کے سوراخوں میں خلال کرنا
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0مخصوص ایّام میں اُوڑھے ہوئے دوپٹہ سے قرآن کو پکڑنا جائز ہے یا نہیں؟
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0ایامِ حیض (عورتوں کی ناپاکی کے مخصوص ایام)میں،معلمہ یا طالبہ کا قرآن پڑھنا پڑھانا
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0رمضان میں بچہ کی ولادت کے بعد دس دن خون آئے تو باقی ایّام کے روزے رکھ سکتی ہے یانہیں؟
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0