اسلام علیکم ! میرا سوال یہ ہے کہ ایک شخص کرنسی کا کام کرتا ہیں اور وہ مجھے حساب کتاب سنبھالنے کو کہہ رہا ہے لیکن وہ ہاتھ در ہاتھ معاملہ نہیں کرتا تو کیا میں وہ کام کر سکتا ہوں؟
مذکور شخص کرنسی کی خرید و فروخت میں اگرچہ ہاتھ در ہاتھ معاملہ نہ کرتا ہو لیکن اگر معاملے کے وقت کسی ایک کرنسی پر قبضہ کرتا ہو اور لین دین میں دیگر شرعی اصولوں کی بھی رعایت رکھتا ہو، تو سائل کےلئے اس کے حساب کتاب سنبھالنے میں کوئی حرج نہیں۔
کما فی بحوث فی قضایا فقہیۃ المعاصرۃ: أما تبادل العملات المختلفة الجنس، مثل الربية الباكستانية بالريال السعودي، فقياس قول الإمام محمد رحمه الله تعالى أن تجوز فيه النسيئة أيضاً، لأن الفلوس (وهى الأثمان الاصطلاحية) لو بيعت بخلاف جنسها من الأثمان، مثل الدراهم، فيجوز فيها التفاضل والنسيئة جميعاً بشرط أن يقبض أحد البدلين في المجلس، لئلا يؤدى إلى الافتراق عن دين بدین ۔(170/1)۔
و فی فقہ البیوع: فالصحیح الراجح فی زماننا أن مبادلۃ الاوراق النقدیۃ الصادرۃ من دولۃ واحدۃ انما تجوز بشرط تماثلھا، ولا یجوز التفاضل فیھا۔(2/735)۔
ائمہ مساجد کا میڈیا ذرائع کی بنیاد پر حکومت کے خلاف بیان دینا غیبت ہے یا تہمت؟-سرکاری ملازم کی چھٹیوں کے احکام
یونیکوڈ ملازمت 0محلہ والوں کا امام صاحب کے ساتھ کنٹریکٹ کرنا اور معاہدہ مکمل ہونے کے بعد اس کو بلا عذر نکالنے کا حکم
یونیکوڈ ملازمت 0تنخواہ کی رقم سے کچھ پیسے کاٹنا اور ملازمت ختم ہونے کے بعد پینشن کے طور پر لے کر استعمال کرنا
یونیکوڈ ملازمت 0