السلام علیکم! ایک رسالہ( جس کا نام ’’ابانہ ‘‘ہے )شمارہ ۳اپریل ۹۶ صفحہ نمبر۳۹ پر علماء کا حوالہ دیتا ہےکہ بدیع الدین کا دعویٰ ہے کہ امام ابوحنیفہ اور امام شیبانی ترجیح دیتے تھے گیارہ رکعت کواور امام محمد جو امام ابوحنیفہؒ کے شاگرد تھے، اپنی مؤطا میں کہتے ہیں کہ امام ابوحنیفہ کا مذہب گیارہ رکعت ادا کرنا تھا، اس کے لۓ امام محمد نے مؤطا میں ایک باب کا اضافہ کیا (صفحہ نمبر ۱۱۰) میں بیان فرمایا ہے، ’’با ب رمضان کے ماہ میں رات کی نماز قائم کرنا اور اس کے فضائل‘‘ اس باب میں انہوں نے چار حدیث بیان کیں، پہلی ، تیسری اور چوتھی حدیث کوئی مخصوص تعداد تراویح کی بیان نہیں کرتی ہیں ، وہ اس جماعت قائم کرنے اور رات کی نماز رمضان میں قائم کرنے کے فضائل بیان کرتی ہیں، جبکہ دوسری حدیث میں گیارہ رکعت کا ذکر ہے۔ پھر امام محمد کہتے ہیں ’’اور ہم یہ کرتے ہیں‘‘۔ (صفحہ نمبر۱۱)
واضح ہو کہ رمضان میں تراویح کی نماز بیس رکعت ہے، اس پر تمام صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ اجمعین، محدثین، ائمۂ اربعہ رحمہم اللہ تعالیٰ اور جمہور علماءِ کرام کا اتفاق واجماع ہے، احادیث کی بہت ساری کتابوں میں بیس رکعت تراویح کے متعلق صریح احادیث موجود ہیں، جبکہ گیارہ رکعت تراویح کے متعلق کوئی صریح روایت موجود نہیں ہے، جو روایت بخاری شریف ، مؤطا امام محمد وغیرہ میں ہے، وہ تراویح کے متعلق نہیں، بلکہ وہ تہجد اور وتر کے متعلق ہے، امام محمد بخاری اور امام محمد رحمہما اللہ تعالیٰ وغیرہ ائمۂ محدثین نے اسے ’’صلوٰۃ اللیل‘‘ یا مطلقاً ’’قیامِ رمضان‘‘ کے باب میں ذکر کیا ہے، جبکہ امام محمدؒ کا یہ جملہ ’’وبھذا ناخذ کلہ‘‘ (اور ہم یہ کرتے ہیں) حضرت اُبی بن کعب رضی اللہ عنہ کی باجماعت تراویح والی روایت سے متعلق ہے، اس کو آٹھ رکعت تراویح کے ساتھ جوڑنا بہت بڑی غلط فہمی ہے۔
اگر بالفرض مذکور فی السؤال کو تراویح کے متعلق مان لیا جائے تو یہ لازم آئےگا کہ رسول اللہ ﷺ پورے سال تراویح کی نماز پڑھتے تھے، اور وہ بھی کبھی چار، کبھی آٹھ، کبھی بارہ اور کبھی سولہ اور یہ دعویٰ غیر معقول ہونے کی ساتھ ساتھ غیر شرعی بھی ہے، کیونکہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ہی صحیح روایات کے مطابق، آٹھ رکعت سے کم وبیش رکعات تہجد پڑھنا ثابت ہے، اس لۓ اس قسم کے دعویٰ سے احتراز لازم ہے۔
فی السنن الكبرى للبيهقي: عن مقسم، عن ابن عباس قال: "كان النبي صلى الله عليه وسلم يصلي في شهر رمضان في غير جماعة بعشرين ركعة، والوتر" اھ (2/ 698)۔
(وکذا فی المعجمه الکبیر للطبرانی،۱۱/۳۱۱ ط: بیروت، وهٰکذا فی المصنف لإبن أبی شیبة : کتاب صلوٰة التطوع والإمامة، رقم الباب نمبر۲۲۷، وأیضا فیه: رقم الحدیث: ۴۶۱۸)۔
وفی السنن الكبرى للبيهقي: عن يزيد بن رومان قال: " كان الناس يقومون في زمان عمر بن الخطاب رضي الله عنه في رمضان بثلاث وعشرين ركعة " اھ (2/ 699)۔
وفی مصنف ابن أبي شيبة: عن حسن، عن عبد العزيز بن رفيع قال: «كان أبي بن كعب يصلي بالناس في رمضان بالمدينة عشرين ركعة، ويوتر بثلاث» اھ (2/ 163)۔
وفی مصنف ابن أبي شيبة: عن عمرو بن قيس، عن ابن أبي الحسناء، «أن عليا أمر رجلا يصلي بهم في رمضان عشرين ركعة» اھ (2/ 163)۔
وفیه أیضاً: عن أبي إسحاق، عن الحارث: «أنه كان يؤم الناس في رمضان بالليل بعشرين ركعة، ويوتر بثلاث، ويقنت قبل الركوع» اھ (2/ 163)۔
وفیه أیضاً: عن عروة، عن عبد الرحمن بن عبد القاري، قال: خرج عمر بن الخطاب في شهر رمضان والناس يصلون قطعا، فقال: «لو جمعنا هؤلاء على قارئ واحد لكان خيرا»، فجمعهم على أبي بن كعب اھ (2/ 165)۔
وفی المدونة الکبریٰ: کتاب الصیام/ صلاة الأمیر خلف القارئ:عن یحییٰ بن سعید، أنه سئل عن صلاة الأمیر خلف القارئ قال ما بلغنا أن عمر وعثمان کانا فی رمضان مع الناس فی المسجد اھ (۲/۲۸۹)۔
وفی مصنف ابن أبي شيبة: عن أبي جمرة، عن ابن عباس، قال: سمعته يقول: «كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي من الليل ثلاث عشرة ركعة» اھ (2/ 234)۔
وفیه أیضاً: عن الأسود، عن عائشة، «أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يصلي بالليل تسع ركعات» اھ (2/ 234)۔
وفی سنن أبي داود: عن عبد الله بن أبي قيس، قال: قلت لعائشة رضي الله عنها: بكم كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يوتر؟ قالت: «كان يوتر بأربع وثلاث، وست وثلاث، وثمان وثلاث، وعشر وثلاث، ولم يكن يوتر بأنقص من سبع، ولا بأكثر من ثلاث عشرة» اھ (2/ 46)۔
وفی المغني لابن قدامة: والمختار عند أبي عبد الله رحمه الله، فيها عشرون ركعة. وبهذا قال الثوري، وأبو حنيفة، والشافعي.(إلی قوله) ولنا، أن عمر رضي الله عنه لما جمع الناس على أبي بن كعب، وكان يصلي لهم عشرين ركعة،(إلی قوله) وعن علي، أنه أمر رجلا يصلي بهم في رمضان عشرين ركعة. وهذا كالإجماع(إلی قوله) ثم لو ثبت أن أهل المدينة كلهم فعلوه لكان ما فعله عمر وأجمع عليه الصحابة في عصره أولى بالاتباع اھ(2/ 123)۔
’’میں آلِ ہند کی طرف سے ٹھنڈی ہوا محسوس کرتا ہوں‘‘ مضمون والی حدیث کی تحقیق
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 1اگر کوئی دعا قبول نہ ہو تو اپنے والدین کی قبر جاؤ۔۔۔ الخ روایت کی تحقیق اور عورت کا قبرستان جانا
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 0حضورؐ سے حضرت خدیجہؓ کو ’’اپنی سوکنوں کو میرا سلام کہنا‘‘ ثابت یا نہیں؟
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 0’’میں بدھ کے دن ظہر اور عصر کے درمیان دعا کرتا ہوں۔۔۔ الخ روایت کی تحقیق:
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 1’’ایک زمانہ ایسا آئےگا کہ میری اُمت کو علماء اسلام سے نقصان پہنچےگا‘‘ روایت کی تحقیق
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 0’’میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمرؓ ہوتا‘‘ حدیث کی تحقیق اور حضرت عائشہؓ کی وفات
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 0صدیوں بعد پیدا ہونے والے محدثین کو حدیث کی صحت کے بارے میں کیسے پتہ چلا؟
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 0