السلام علیکم
میں ایک تاجر ہوں اور میرے کاروبار کی نوعیت یہ ہے کہ میں پاکستان میں مقیم کلائنٹ کی مانگ پر یورپ سے استعمال شدہ کپڑے اور دیگر اشیاء درآمد کرتا ہوں۔ میرا کاروباری عمل ہے، میں سپلائرز سے بات کرتا ہوں اور فراہم کردہ سامان کی تصاویر ترتیب دیتا ہوں اور قیمت پر بات چیت کرتا ہوں۔ میں اپنے کلائنٹ کو تصاویر دکھاتا ہوں اور قیمت کی تصدیق کرتا ہوں۔ کلائنٹ کے ساتھ معاہدے پر میں آرڈر دیتا ہوں ۔ کلائنٹ بینک کو ادائیگی کرتا ہے اور سپلائر کی طرف سے بھیجی گئی درآمدی دستاویز وصول کرتا ہے ۔ کنٹینر کی آمد پر میرا کلائنٹ بندرگاہ سے کنٹینر وصول کرتا ہے۔ میرا کام، سپلائر سے رابطہ کرنا اور یورپ سے پاکستان تک کنٹینر بک کرنا ہے ۔ کلائنٹ کے گودام میں کنٹینر خالی ہونے کے بعد مجھے اپنی مقررہ کمیشن کی رقم مل جاتی ہے۔ ایک خاص معاملے میں سپلائر کے ذریعہ فراہم کردہ سامان میں مسئلہ تھا۔ فراہم کردہ سامان مواصلات کے مطابق نہیں تھا اور میرے مؤکل کو بہت زیادہ نقصان پہنچا، سپلائی کرنے والے سے بات کرنے کے بعد، اس نے کہا، وہ نقصان کو پورا کرنے کے لیے کم لاگت کے ساتھ مزید کنٹینر فراہم کرے گا، لیکن اعتماد کے مسائل کی وجہ سے میرا مؤکل اس سے اتفاق نہیں کرتا، کیونکہ پورٹ سے سامان کو کلیئر کرنے میں بھاری لاگت آتی ہے۔ نقصان کی وصولی کے لئے میرے مؤکل نے نقصان کی رقم اس کے اور میرے درمیان تقسیم کردی ۔ ہر کنٹینر پر میری کمیشن کی رقم 30،000 روپے ہے۔ اور میں اس رقم سے سیلز ٹیکس بھی ادا کرتا ہوں۔ میرا کلائنٹ نقصان کی نصف رقم کو پورا کرنے کے لئے ہر کنٹینر ( مختلف سپلائرز سے درآمد ) پر میری کمیشن کی نصف رقم کاٹتا ہے ۔ نقصان کی رقم میں میرا حصہ 700،000 روپے ہے ۔ اب مجھے 15،000 روپے ملتے ہیں ۔ ہر کنٹینر پر جب تک میرا کلائنٹ 700.000 روپے وصول نہیں کر لیتا ۔ آج تک میں نے 200،000 روپے کی ادائیگی کی ہے۔ شریعت کی روشنی میں میرا سوال یہ ہے کہ کیا میں نقصان کا ذمہ دار ہوں؟ کیا مجھے یہ 700،000 روپے کا بوجھ برداشت کرنا چاہیئے ؟ اگر وہی مسئلہ دوبارہ ہو جائے تو اس مسئلے کا حل کیا ہے؟
سوال میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق اگر سائل کی حیثیت فقط کمیشن ایجنٹ کی ہو، جس کا کام صرف خریدار اور فروخت کنندہ کے درمیان رابطہ کروانا ہو ، اور سائل مال میں نکلنے والے ممکنہ نقصان کی تلافی بھی اپنے ذمہ نہ لیتا ہو ، تو ایسی صورت میں خریدار کا فروخت کنندہ کے ساتھ سائل کو بھی نقصان کا ضامن قرار دیکر اس کے طے شدہ کمیشن میں کٹوتی کرنا شرعاً درست نہیں، جس سے اسے احتراز لازم ہے، اور خریدار نے اب تک سائل سے اس مد میں جتنی رقم کی کٹوتی کی ہے، خریدار کے ذمہ وہ رقم سائل کو لوٹانا بھی شرعاً ضروری ہے۔
كما في المبسوط للسرخسي: وهذا بخلاف الكفالة بالدرك، فإنه يصح؛ لأن الكفالة تقبل الإضافة، ولهذا لو كفل بما ذاب له على فلان، فكذا إذا كفل بالدرك فإنه يصح؛ لأنه يكون العقد مضافا اھ (21/ 73)۔
کمپنی کی طرف سےجہاز کے ٹکٹ کی مد میں ملنے والی رقم بچا کر ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ اجرت و کرایہ داری 0