مجھے راہ نمائی چاہیئے کہ ہم دونوں میاں بیوی میں بے انتہاء اختلاف چل رہا تھا، 27 مئی 2023 کو ہمارے بیچ جھگڑا ہوا، میں نے نیند کی میڈیسن لی ہوئی تھی، اسی جھگڑے میں، میں نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی، اس نے فون کر کے گھر والوں کو بلالیا، جب گھر والے آئے تو ان کو میری بیوی نے بتایا کہ میں نے تین طلاق دے دی ہیں، مجھے کنفرم نہیں تھا کہ تین طلاقیں دی ہیں یا دو، جب گھر والے آئے تو انہوں نے مجھے روکا کہ اگر آپ نے دو دی ہیں تو بس اب نہیں ہوئی ہے طلاق، پھر میری سب کے سامنے بیوی سے دوبارہ بحث شروع ہو گئی، تو میں نے گھر والوں کے سامنے کہا کہ "تو پھر میں تیسری دیتا ہوں، میں نے اسے آزاد کیا ، اس پر گھر والوں نے مجھے تھپڑ مارا، اور سامنے سے ہٹا دیا بیوی کے ، تو کیا میری طلاق ہو گئی یا نہیں ؟
سائل نے یہ نہیں لکھا کہ اس نے لڑائی جھگڑے کے دوران اپنی بیوی کو کن الفاظ سے طلاق دی ، تاہم اگر اس نے صریح الفاظ کے ساتھ طلاق دی ہو ( مثلا ًمیں تجھے طلاق دیتا ہوں وغیرہ) تو سائل کے بقول جب اس نے پہلی دفعہ دو یا تین مرتبہ طلاق کے الفاظ کہے تو ایسی صورت میں چونکہ دو طلاقوں کا وقوع تو یقینی تھا، اس لیے پہلی دفعہ کے الفاظ سے سائل کی بیوی پر دور جعی طلاقیں واقع ہو چکی تھیں، اور مزید سائل کے پاس فقط ایک طلاق کا اختیار تھا، لیکن اس کے بعد دوبارہ بحث شروع ہونے پر جب سائل نے اپنی بیوی کے متعلق یہ کہا کہ ''تو پھر میں تیسری دیتا ہوں، میں نے اسے آزاد کیا " تو اس سے بقیہ ایک طلاق بھی واقع ہو کر مجموعی طور پر تین طلاقوں کے ذریعے حرمتِ مغلَّظہ ثابت ہو چکی، اب رجوع نہیں ہو سکتا، اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہو سکتا، جبکہ عورت ایام عدت کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی شرعاً آزاد ہے۔
لما في القرآن الكريم: {فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ } [البقرة: 230]
و في الفقه الإسلامي وأدلته: يقع الطلاق باللفظ الصريح بدون حاجة إلى نية أو دلالة حال، فلو قال الرجل لزوجته: أنت طالق، وقع الطلاق، ولا يلتفت لادعائه أنه لا يريد الطلاق. (9/ 358)
و في بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع: وأما الذي يرجع إلى العدد فهو إيقاع الثلاث أو الثنتين في طهر واحد لا جماع فيه سواء كان على الجمع بأن أوقع الثلاث جملة واحدة أو على التفاريق واحدا بعد واحد بعد أن كان الكل في طهر واحد وهذا قول أصحابنا اھ (3/ 94)
و في الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار): فإن سرحتك كناية لكنه في عرف الفرس غلب استعماله في الصريح فإذا قال " رهاكردم " أي سرحتك يقع به الرجعي مع أن أصله كناية أيضا اھ (3/ 299)۔
حنفی کا تین طلاق دینے کے بعد غیر مقلدین کے فتوی پر عمل کرنے پر اصرارکرنا
یونیکوڈ حلالہ اور طلاق مغلظہ 0