السلام علیکم : ہم پاکستان میں رہتے ہوئے امریکہ، کینیڈا، انگلینڈ اور دوسرے غیر ملکی ممالک میں سپلائی چین مینجمنٹ کی خدمات دے رہے ہیں, یعنی اگر کوئی بندہ کوئی چیز کسی ایک ملک سے خرید کر دوسرے میں بیچنا چاہتا ہے , تو وہ ہمیں ملازمت پر رکھ لیتا ہے , اور ہم اس کے لئے سب سے پہلے سامان مہیا کرنے والی فیکٹری سے رابطہ کرتے ہیں، جو کہ عمومی طور پر چائنہ میں ہوتی ہے ، سامان مہیا ہونے کے بعد اس کی ترسیل چائنہ سے امریکہ بذریعہ بحری جہاز / ہوائی جہاز ترتیب دینا، اور اس کے بعد سامان کی امریکہ میں ڈیلیوری، یہ سب کام ہمارے ذمہ ہوتا ہے ، اس کے علاوہ سامان کی کھپت کا حساب کتاب رکھنا ، اور نئے مال کے لئے فیکٹری سے رابطہ کرنا ،اس سب کام کو کرنے کے لئے ہمیں ماہانہ تنخواہ ملتی ہے، کام کے لئے وقتاً فوقتاً مختلف پراجیکٹس ملتے رہتے ہیں ،سوال کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ہمیں بعض اوقات کچھ ایسے پراجیکٹ ملتے ہیں، جس میں شراب کی خرید و فروخت دیکھنا ، یا بعض اوقات جنسی پراڈکٹس جیسا کے کنڈمز ، سیکس ٹوائز وغیرہ میں کام کرنا ہوتا ہے، فیکٹری بھی غیر اسلامی ملک میں ہوتی ہے، اور سامان کی فروخت بھی غیر اسلامی ممالک میں ،کیا اس صورتحال میں ہمارے لئے اس پراجیکٹ پر کام کرنا اور اس سے تنخواہ لینا جائز ہے ؟
سائل کی ملازمت کا تعلق اگر سپلائی چین مینجمنٹ' سے ہو ،جس میں مختلف ممالک میں موجود افراد کے درمیان ہونے والے لین دین کے بعد انہیں سامان کی ترسیل ،دستیابی ،اور حساب و کتاب رکھنا سائل کی ذمہ داری ہو تو چونکہ بنیادی طور پر یہ کام جائز ہے ، اس لئے سائل کے لئے سپلائی چین مینجمنٹ کی ملازمت اختیار کرنے اور اس پر حاصل شدہ رقم کو اپنے استعمال میں لانے کی گنجائش ہے ، البتہ اگر کھبی کھبار سائل کو شراب ، یا ایسی اشیاء جن کا شرعاً جائز استعمال ممکن نہ ہو ،ان کی ترسیل ،اور حساب و کتاب وغیرہ دیکھنے کے ساتھ ساتھ اس کی خرید و فروخت کی نوبت پیش آجائے ،تو اس کے بنانے اور استعمال کرنے والے اگرچہ غیر اسلامی ممالک میں ہوں ،تب بھی سائل کے لئے ایسے پراجیکٹ میں کام کرنا جائز نہیں ،بلکہ اسے معذرت کرنی چاہیئے ۔
کما فی الدر المختار : قال في التتارخانية : و في الدلال و السمسار يجب أجر المثل، و ما تواضعوا عليه أن في كل عشرة دنانير كذا فذاك حرام عليهم . و في الحاوي : سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار ، فقال : أرجو أنه لا بأس به و إن كان في الأصل فاسدا لكثرة التعامل و كثير من هذا غير جائز ، فجوزوه لحاجة الناس إليه كدخول الحمام و عنه قال : رأيت ابن شجاع يقاطع نساجا ينسج له ثيابا في كل سنة(6/ 63)۔
و فی المبسوط : و لا تجوز الإجارة على شيء من الغناء و النوح و المزامير و الطبل و شيء من اللهو ؛ لأنه معصية و الاستئجار على المعاصي باطل فإن بعقد الإجارة يستحق تسليم المعقود عليه شرعا و لا يجوز أن يستحق على المرء فعل به يكون عاصيا شرعا ،(16/38)۔
کمپنی کی طرف سےجہاز کے ٹکٹ کی مد میں ملنے والی رقم بچا کر ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ اجرت و کرایہ داری 0