کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرا نکاح مارچ 2022 ءکوہوا تھا رخصتی ہونا باقی تھی ٹھیک2022۔08۔22 کو میرے شوہر نے مجھے اکٹھی تین بار طلاق فون پر دی (میرے طلب کرنے پر). طلاق کے 03 ماہ کے دوران میرے شوہر کر میرے گھر آئے میرا ہاتھ پکڑ کر کہا میں تم سے صلح کرنا چاہتا ہوں جس پر میں نے بھی رضامندی ظاہر کی لیکن اس دن کے بعد اب انہوں نے اگست 2023 ءمیں رابطہ کیا ہے کہ ہم تمہاری رخصتی چاہتے ہیں ہم اہل حدیث سے ہیں اور ہمارا نکاح باقی ہے برائےکرم شریعت کی روشنی رہنمائی فرمائیں کہ یہ نکاح ہم دونوں کے مابین باقی ہے یا طلاق ہو چکی ہے۔
نوٹ : نکاح کے بعد سائلہ اپنے شوہر سے دو بار تنہائی کی حالت میں ملاقات کا اتفاق ہوا، ایک بار گاڑی میں گلے لگنا اور دوسری بار تنہائی میں ملاقات کی صورت یہ تھی کہ ہم دونوں گھر کے کمرے میں اکیلے تھےکوئی دوسر اموجود نہیں تھا اور کمرے کا دروازہ بند تھا ، شوہر نے بوسہ لیا اورگلے لگایا اس طرح ملاقات طلاق سے پہلے بھی ہوئی اور پہلی طلاق کے بعد بھی ، شوہر نے دو مرتبہ طلاق دی، پہلی مرتبہ یہ الفاظ " میں آپ کو آزاد کرتا ہوں" ایک مرتبہ کہا پھر بعدمیں میسج کیا کہ میں رجوع کرتا ہوں یہ ایک طلاق دی ہے، اس کے بعد گھر آئے ، وہاں ہماری تنہائی میں ملاقات ہوئی ، اس کے پانچ چھ مہینے بعد فون پر لڑائی جھگڑانے کے دوران غصے میں یہ الفاظ تین مرتبہ بولے " میں صوبر تمہیں طلاق دیتا ہوں" اس کے بعد گھر آکر کہنے لگے کہ ہم اہلحدیث ہیں ایک ٹائم سو مرتبہ بولنے سے بھی ایک طلاق ہوتی ہے ، پھر گھر کے نیچے گاڑی میں آئے اور کہامیں رجوع کرتا ہوں ،اب میرے لیے کیا حکم ہے کیا یہ رجوع صحیح ہے یا تینوں طلاقیں واقع ہو چکی ہے ،شریعت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں ۔
واضح ہو کہ ایک مجلس کی تین طلاقیں خواہ ایک جملہ سے دی ہوں جیسے تجھے تین طلاق ہے یا علیحدہ علیحدہ جملوں سے دی ہوں جیسے تمہیں طلاق دیتاہوں ،تمہیں طلاق دیتا ہوں، تمہیں طلاق دیتا ہوں، بہر صورت اس سے قرآن وسنت کی روشنی میں تین طلاقیں واقع ہو جاتی ہیں، اس پر حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین، تابعین عظام رحمہم اللہ کا اتفاق ہے اور امت کے چاروں ائمہ امام اعظم،امام مالک، امام شافعی ، امام احمد بن حنبل رحمھم اللہ کا بھی یہی مسلک ہے، لہذا اس سلسلہ میں کسی غیر مقلد سے تین طلاقوں کے بعد بغیر حلالۂ شرعیہ کے باہم اکٹھا رہنے کا فتوی لینا اور اس فتوی کو جواز بنا کر آپس میں تعلقات قائم کرنا قرآن وسنت کی واضح نصوص کے خلاف اور باجماع امت حرام ہے۔
لہذا سوال میں ذکر کردہ وضاحت اگر واقعۃً درست اور مبنی برحقیقت ہو اس طور پر کہ سائلہ اور اس کے شوہر کے درمیان نکاح کے بعد ایسے بند کمرے میں ملاقات کا موقع میسر آیا ہو جس میں ہمبستری کرنے میں کوئی رکاوٹ نہ ہو ،تو پھر سوال میں درج کردہ تفصیل کے مطابق سائلہ کے شوہر نے اسے طلاق دیدی ہو ں، تو ایسی صورت میں سائلہ کے شوہر نے پہلی دفعہ سائلہ کو جو الفاظ کہے کہ "میں آپ کو آزاد کرتا ہوں" تو اس سے سائلہ پر ایک طلاقِ رجعی واقع ہوگئی تھی ، پھر دورانِ عدت بذریعہ میسج مذکور الفاظ "میں رجوع کرتا ہوں"لکھ کر بھیج دینے سے رجوع بھی ہوچکا تھا مگر آئندہ کے لئے سائلہ کے شوہر کے پاس فقط دو طلاقوں کا اختیار حاصل تھا،چنانچہ اس کے بعد جب سائلہ کے شوہر نے بذریعہ فون تین دفعہ مذکور الفاظ " میں صنوبر تمہیں طلاق دیتا ہوں " کہے ،تو اس سے سائلہ پر بقیہ دو طلاقیں بھی واقع ہوکر مجموعی طور پر تین طلاقوں کے ذریعے حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے اور ایک طلاق محل نہ ہونے کی وجہ سے لغو ہوچکی ہے،چنانچہ اب رجوع نہیں ہوسکتا اور بغیرحلالۂ شرعیہ کے دوبارہ باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہوسکتا ، لہذا دونوں پر لازم ہےکہ میاں بیوی والے تعلقات ہرگز قائم نہ کریں ،ورنہ دونوں سخت گنہگار ہونگے ، جبکہ سائلہ ایامِ عدت گزارنےکے بعد کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔
کما فی تنزیل القرآن : {فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ۔(البقرہ :230)۔
وفي صحيح البخاري: عن عائشة،" ان رجلا طلق امراته ثلاثا فتزوجت، فطلق، فسئل النبي صلى الله عليه وسلم: اتحل للاول؟ قال: لا حتى يذوق عسيلتها كما ذاق الاول".(5261)۔
وفي صحيح البخاري: وقال الليث: حدثني نافع، قال:" كان ابن عمر إذا سئل عمن طلق ثلاثا، قال: لو طلقت مرة او مرتين فإن النبي صلى الله عليه وسلم امرني بهذا، فإن طلقتها ثلاثا، حرمت حتى تنكح زوجا غيرك".(5264)۔
وفی سنن الکبری : عن سویدبن غفلۃ کانت عائشۃ الخثعمیۃ عند الحسن ابن علی فلما قتل علی قالت لتھنئک الخلافۃ قال: بقتل علی تظھرین الشماتۃ ؟ إذھبى أنت طالق يعنى ثلاثا قال: فتلفت ثيابھا وقعدت حتى مضت عدتھا فبعث إليھا ببقية لھا من صداقھا وعشرۃ الاف صدقة فلما جاء ھا الرسول قالت متاع قليل من حبيب مفارق فلمابلغه قولھا بكى ثم قال لولا أنى سمعت أوحدثنى أبى أنه سمع جدي يقول أيما رجل طلق إمرأته ثلاثا عند الاقراء او ثلاثا مبهمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره لراجعتھا ۔اھ(8/549/بیروت)۔
وفى مصنف إبن أبى شيبة : عن ھارون عن أبيه قال : كنت جالسا عند ابن عباس فأتاه رجل فقال يابن عباس انه طلق إمرأته مائة مرة وإنما قلت مرة واحدة فتبين منى بثلاث ام ھى واحدة ؟ فقال بانت بثلاث وعليك وزر سبعة وتسعين ۔اھ(4/12)۔
وأخرج ابو داود بسند صحيح من طريق مجاھد قال : كنت عند ابن عباس فجاءه رجل فقال : إنه طلق إمرأته ثلاثا فسكت حتى ظننت سيردھا اليه فقال ينطلق أحدكم فيركب الحموقة ثم يقول يابن عباس يابن عباس إن الله تعالى قال :(ومن يتق الله يجعل له مخرجا وإنك لم تتق الله فلم أجدك مخرجا عصيت ربك وبانت إمرأتك ۔اھ(1/299)۔
قال العلامة ابن تيمية رحمه الله : فيمن نكح عند شھود فسقة ثم طلقھا ثلاثا فأراد التخلص من الحرمة بأن النكاح كان فاسدا فى الاصل على مذھب الشافعى رحمه الله فلم يقع الطلاق مانصه وھذا القول يخالف إجماع المسلمين فانھم متفقون على أن من اعتقد حل الشئ كان عليه أن يعتقد ذلك سواء وافق غرضه او خالف ومن اعتقد تحريمه كان عليه أن يعتقد ذلك فى الحالين وھؤلاء المطلقون لا يقولون بفساد النكاح بفسق الولى إلا عند الطلاق الثلاث لا عند الاستمتاع والتوارث يكونون فى وقت يقلدون من يفسده وفى وقت يقلدون من يصححه بحسب الغرض والھوى ومثل ھذا لايجوز باتفاق الامة ونظير ھذا أن يعتقد الرجل ثبوت شفعة الجوار إذا كان طالبا لھا وعدم ثبوتھا إذا كان مشتريا فان ھذا لايجوز بالاجماع وكذا من بنى على صحة ولاية الفاسق فى حال نكاحه وبنى على فساد ولايته حال طلاقه لم يجز ذلك باجماع المسلمين ولو قال المستفتى المعين انا لم اكن اعرف ذلك وانا اليوم التزم ذلك لم يكن من ذلك له لأن ذلك يفتح باب التلاعب بالدين ويفتح الذريعة إلى أن يكون التحليل والتحريم بحسب الاھواء ۔اھ(2/240۔
وفی الہندیہ: وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نکاحا صحيحا و يدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها، كذا في الهداية الخ(473/1)۔
حنفی کا تین طلاق دینے کے بعد غیر مقلدین کے فتوی پر عمل کرنے پر اصرارکرنا
یونیکوڈ حلالہ اور طلاق مغلظہ 0