السلام علیکم : رہنمائی فرمائیں:
(1):ایمازون پر کام کرنا کیسا ہے، مطلب کسی کی پراڈکٹ بیچ کر کمیشن لینا وغیرہ تفصیلات سے بتا دیں.
(2): اگر کوئی ہوٹل یا ائیر لائن میں نوکری کرتا ہے، تو یہاں پر اسے شراب وغیرہ بھی کسٹمرز کو سرو کرنی پڑھتی ہے، کیا یہ کر سکتا ہے، شرعاً کیا احکامات ہیں ؟
(1):واضح ہو کہ ہماری معلومات کے مطابق ایمازون پر اشیاء کی فروخت کے لئے اختیار کی جانے والی" ایفیلیٹ مارکیٹنگ" کا طریقہ کار یہ ہوتا ہے کہ جتنی بھی ای کامرس ویب سائیٹس ہیں، یہ اپنا ایک ایفیلیٹ پروگرام متعارف کرواتی ہیں ، اس پروگرام کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ لوگ اس پروگرام کے ممبر بن کر ان کے پروڈکٹ کی تشہیر کریں، جس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ جو لوگ ممبر بن جاتے ہیں ، وہ ان ویب سائٹ پر بیچی جانے والی اشیاء میں سے کسی چیز کا لنک تشکیل دیتے ہیں، اور یہ لنک اپنے متعلقین کو بذریعہ فیسبک یا واٹس ایپ وغیرہ بھیجتے ہیں ،چنانچہ جو لوگ اس لنک کے ذریعے متعلقہ ویب سائٹ پر جاکر اس کا وزٹ کریں، تو اس لنک کی تشکیل دینے والے کو اس چیز کی قیمت کا ایک مخصوص فیصد بطورِ کمیشن ملتا ہے ، مذکورہ بالا طریقہ شرعاً جائز ہے، اور اس میں لنک تشکیل دینے والے کی حیثیت اجیر کی ہے، یعنی اس کا کام ویب سائٹ پر بیجی جانے والی اشیاء کا لنک تشکیل دیگر لوگوں کو اس چیز کی خریداری کی طرف راغب کرنا ، اور مخصوص ویب سائٹ تک لیکر جانا ہے، لہذا سائل کے لئے شرعی طریقہ کار کے مطابق حلال پراڈکٹ کی تشہیر کرکے اس پر طے شدہ کمیشن وصول کرنا جائز اور درست ہے ۔
(2): جبکہ کسی ہوٹل یا ائیر لائن میں اگر ملازم کی ذمہ داری فقط شراب اور دیگر حرام چیزیں کسٹمر کو پیش کرنے کی نہ ہو ، تو ایسی ملازمت اختیار کرنے کی اجازت ہے ،البتہ اگر کبھی کھبار کسی کسٹمر کو شراب وغیرہ پیش کرنے کی نوبت آتی ہو تو چونکہ مسلمان کیلئے کسی شخص کو شراب پیش کرنا جائز نہیں ، اس لئے کسی کسٹمر کو شراب پیش کرنے سے اجتناب لازم ہوگا۔
کما فی سنن الترمذی : عن أنس بن مالك قال لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم في الخمر عشرة عاصرها ومعتصرها وشاربها وحاملها والمحمولة إليه وساقيها وبائعها وآكل ثمنها والمشتري لها والمشتراة له اھ (3/295) ۔
وفی رد المحتار :قال في التتارخانية: وفي الدلال والسمسار يجب أجر المثل، وما تواضعوا عليه أن في كل عشرة دنانير كذا فذاك حرام عليهم. وفي الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسدا لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز، فجوزوه لحاجة الناس إليه كدخول الحمام اھ(6/63)
وفی الھندیۃ : وأما شرائط الصحة فمنها رضا المتعاقدين. ومنها أن يكون المعقود عليه وهو المنفعة معلوما علما يمنع المنازعة فإن كان مجهولا جهالة مفضية إلى المنازعة يمنع صحة العقد وإلا فلا. ومنها بيان محل المنفعة اھ (4/411) ۔
ائمہ مساجد کا میڈیا ذرائع کی بنیاد پر حکومت کے خلاف بیان دینا غیبت ہے یا تہمت؟-سرکاری ملازم کی چھٹیوں کے احکام
یونیکوڈ ملازمت 0محلہ والوں کا امام صاحب کے ساتھ کنٹریکٹ کرنا اور معاہدہ مکمل ہونے کے بعد اس کو بلا عذر نکالنے کا حکم
یونیکوڈ ملازمت 0تنخواہ کی رقم سے کچھ پیسے کاٹنا اور ملازمت ختم ہونے کے بعد پینشن کے طور پر لے کر استعمال کرنا
یونیکوڈ ملازمت 0