میرا نام قاسم سلیم ہے ، میرا تعلق پاکستان کراچی سے ہے ، میں ایک سرکاری ملازم ہوں ، ہماری تنحواہ سے ہر ماہ مخصوص رقم”GP Fund“ کے نام سے کٹوتی ہوتی ہے ، اور اتنی ہی رقم ادارہ بھی ملاتا ہے ، جس پر ہر سال”Intrest“ لگتا ہے ، جو کہ ملازمت پوری ہونے پر ریٹائرمنٹ پر”Intrest“کے ساتھ ملتا ہے ، سوال میرا یہ ہے کہ ریٹائرمنٹ پر ملنے والی یہ رقم سود شدہ شمار ہوگی یا نہیں ؟ اکثر اس بارے میں یہ رائے عام ہے کہ یہ رقم سود میں شمار نہیں ہوتی ، کیوںکہ سرکار آپ کی یہ رقم آپ کی مرضی کے بغیر کٹوتی کر رہا ہے ، تو جو رقم موجودہ وقت میں ”Value“ رکھتی ہے وہ جب آپ کو ریٹائرمنٹ پر ملتی ہے ، اس کی وہ ” Value“ نہیں رہتی ، اس لیے وہ تمام پیسہ سرکار کی طرف سے آپ کو احسان کی مدمیں ملتا ہے نہ کہ وہ سود شمار ہو گا ، میں ذاتی طور پر اس سے ملنے والی اضافی رقم کو نہیں وصول کرنا چاہتا ہوں ، مگر ادارہ ”Intrest“ میں دلچسپی نہ رکھنے کے باوجود لامحالہ ”Intrest“ لگاتا ہے ، ایسی صورت میں کیا کرنا بہتر ہے ؟ یہ سود میں شمار ہوگا ؟ اصلاح فرمائیے۔ جزاک اللہ خیراً
جی پی فنڈ کی دو قسمیں ہیں(1) جبری (2) اختیاری
جبری جی پی فنڈ میں ملازم کی تنخواہ سے جو رقم ماہ بماہ کاٹی جاتی ہے اور اس پر ہر ماہ جو اضافہ محکمہ اپنی طرف سے کرتا ہے ، پھر مجموعہ پر جو رقم سالانہ بنام سود جمع کرتا ہے ، شرعاً ان تینوں رقموں کا حکم ایک ہی ہے ، اور وہ یہ کہ یہ سب رقمیں درحقیقت ملازم کی تنخواہ ہی کا حصہ ہیں ، اگرچہ سود یاکسی نام سے دی جائیں ، لہٰذا ملازم کے لئے یہ لینا اور اپنے استعمال میں لانا جائز اور درست ہے ۔
جبکہ جی پی فنڈ کی دوسری قسم اختیاری ہے ، جس کو ملازم اپنی مرضی اور اختیار سے کٹواتا ہے، اس پرجو رقم محکمہ بنام سود دے گا ، اس کو لینے اور اپنے استعمال میں لانے سے اجتناب کرنا چاہیئے ، لہٰذا سائل کی تنخواہ سےاگر سائل کی اجازت و اختیار کے بغیر ”پراویڈنٹ فنڈ “ کے نام سے رقم کی کٹوتی ہوتی رہی ہو تو ایسی صورت میں سائل ادارے کیطرف سے ”انٹرسٹ“ کے نام سے دی جانے والی رقم بھی اپنے استعمال میں لاسکتا ہے۔
کما فی رد المحتار : (قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر ۔ اھ (5/ 166)۔
و فی بدائع الصنائع : و جملة الكلام في الديون أنها على ثلاث مراتب في قول أبي حنيفة : دين قوي ، و دين ضعيف ، و دين وسط كذا قال عامة مشايخنا أما القوي فهو الذي وجب بدلا عن مال التجارة كثمن عرض التجارة من ثياب التجارة ، و عبيد التجارة ، أو غلة مال التجارة (الی قوله) و أما الدين الضعيف فهو الذي وجب له بدلا عن شيء سواء وجب له بغير صنعه كالميراث ، أو بصنعه كما لوصية ، أو وجب بدلا عما ليس بمال كالمهر ، و بدل الخلع ، و الصلح عن القصاص ، و بدل الكتابة (الی قوله) و أما الدين الوسط فما وجب له بدلا عن مال ليس للتجارة كثمن عبد الخدمة ، و ثمن ثياب البذلة و المهنة ۔ اھ (2/ 10)۔
و فیه ایضاً : (و أما) الذي يرجع إلى نفس القرض : فهو أن لا يكون فيه جر منفعة ، فإن كان لم يجز ، نحو ما إذا أقرضه دراهم غلة ، على أن يرد عليه صحاحا ، أو أقرضه و شرط شرطا له فيه منفعة ؛ لما روي عن رسول الله - صلى الله عليه و سلم - أنه « نهى عن قرض جر نفعا » ؛ و لأن الزيادة المشروطة تشبه الربا ؛ لأنها فضل لا يقابله عوض و التحرز عن حقيقة الربا ، و عن شبهة الربا واجب ۔ اھ (7/ 395)۔
و فی البحر الرائق : (قوله و الأجرة لا تملك بالعقد) (الی قوله) (قوله بل بالتعجيل أو بشرطه أو بالاستيفاء أو بالتمكن) يعني لا يملك الأجرة إلا بواحد من هذه الأربعة و المراد أنه لا يستحقها المؤجر إلا بذلك ۔ اھ (7/300)۔
ائمہ مساجد کا میڈیا ذرائع کی بنیاد پر حکومت کے خلاف بیان دینا غیبت ہے یا تہمت؟-سرکاری ملازم کی چھٹیوں کے احکام
یونیکوڈ ملازمت 0محلہ والوں کا امام صاحب کے ساتھ کنٹریکٹ کرنا اور معاہدہ مکمل ہونے کے بعد اس کو بلا عذر نکالنے کا حکم
یونیکوڈ ملازمت 0تنخواہ کی رقم سے کچھ پیسے کاٹنا اور ملازمت ختم ہونے کے بعد پینشن کے طور پر لے کر استعمال کرنا
یونیکوڈ ملازمت 0