حجرے میں امامت پر تنخواہ لینا کیسا ہے?
واضح ہو کہ امامت پر تنخواہ کا جواز صرف مسجد تک ہی محدود نہیں بلکہ اگر کسی عذر کی بناء پر حجرے وغیرہ میں باقاعدہ پنج وقتہ یا چند نمازیں باجماعت ادا کی جاتی ہوں تو امام کیلئے اس امامت پر اُجرت لینا شرعاً درست ہے۔
کما فی الدر المختار : (لا تصح الإجارة لعسب التيس) و هو نزوه على الإناث (و) لا (لأجل المعاصي مثل الغناء و النوح و الملاهي) و لو أخذ بلا شرط يباح (و) لا لأجل الطاعات مثل (الأذان و الحج و الإمامة و تعليم القرآن و الفقه) و يفتى اليوم بصحتها لتعليم القرآن و الفقه و الإمامة و الأذان۔اھ (6/55)۔
و فی رد المحتار : إن المتقدمين منعوا أخذ الأجرة على الطاعات ، و أفتى المتأخرون بجوازه على التعليم و الأذان و الإمامة۔اھ (4/417)۔
ائمہ مساجد کا میڈیا ذرائع کی بنیاد پر حکومت کے خلاف بیان دینا غیبت ہے یا تہمت؟-سرکاری ملازم کی چھٹیوں کے احکام
یونیکوڈ ملازمت 0محلہ والوں کا امام صاحب کے ساتھ کنٹریکٹ کرنا اور معاہدہ مکمل ہونے کے بعد اس کو بلا عذر نکالنے کا حکم
یونیکوڈ ملازمت 0تنخواہ کی رقم سے کچھ پیسے کاٹنا اور ملازمت ختم ہونے کے بعد پینشن کے طور پر لے کر استعمال کرنا
یونیکوڈ ملازمت 0