کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہم اپنی بیٹی کو سسرال سے لینے گئے تھے،بچی کی ساس نے نواسی کو رکھ لیا جو دو ماہ کی ہےاور اس کے بعد شوہر نے واٹس ایپ پر طلاق نامہ ارسال کردیا ، اب ان کا کہنا ہے کہ ہم نے اپنے قریبی کسی جگہ سے فتویٰ لیا ہے کہ رجوع کی گنجائش ہے، اب آپ ہماری رہنمائی فرمائیں کہ منسلکہ طلاق نامہ بنوانے یا اس پر دستخط کرنے کے بعد رجوع کی گنجائش ہے یا نہیں ؟ اور دو ماہ کی جو بیٹی سسرال والوں نے رکھ لی ہے ، اس کی پرورش کا حق کس کو ہے؟
سوال کے ساتھ منسلکہ طلاق نامہ اگر مطابقِ اصل ہو اور سائل کے داماد مسمی شیخ محمد وقاص نے مذکور طلاق نامہ پر دستخط کردیے تو اس سے سائل کی بیٹی پر طلاق نامہ میں درج تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے، اب رجوع نہیں ہوسکتا اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہوسکتا ، لہذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں اور میاں بیوی والے تعلقات ہرگز قائم نہ کریں ، ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہونگے، جبکہ عورت ایامِ عدت گزارنے کے بعد اپنی مرضی سے دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے ۔
اور حلالۂ شرعیہ یہ ہے کہ عورت اپنے شوہر سے علیحدگی اور عدت طلاق گزارنے کے بعد بغیر کسی شرط کے کسی دوسر ے مسلمان شخص سے اپنا عقد ِ نکاح کرے ، چنانچہ اب اگر وہ دوسرا شخص بھی اس سےایک مرتبہ ہمبستری (جوکہ حلالۂ شرعیہ کےتحقق لئے ضروری ہے )کے فورا ً بعد یا ازدواجی زندگی کے کچھ عرصہ بعد طلاق دیدے یا بیوی سے پہلے شوہر کا انتقال ہوجائے ،بہر صورت اسکی عدت گزرنے کے بعد وہ پہلے شوہر کے عقدِ نکاح میں آنا چاہے اور پہلا شوہر بھی اسے رکھنے پر رضامند ہو تو نئے مہر کے ساتھ گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ عقد نکاح کرکے باہم میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی بسر کرسکتے ہیں ۔
جبکہ علیحدگی کی صورت میں مذکور بچی کی عمر سات(9) سال مکمل ہونے تک اسکی پرورش کا حق اس کی والدہ کو ہے ، بشرطیکہ والدہ اس دوران اس بچی کے کسی غیر ذی رحم محرم سے نکاح نہ کرلے، تاہم اگر والدہ بچی کے کسی غیر ذی رحم محرم سے نکاح کرتی ہے تو اس کی وجہ سے اس کا حق پرورش ختم ہوکر بچی کی نانی اور اس کے بعد دادی ، خالہ اور پھوپھی کو بالترتیب حاصل ہوگا، لہذا مذکور بچی کی نانی کا بچی کو اپنے پاس رکھنے پر بضد ہونا درست نہیں ، البتہ مذکور مدت کے بعد بچی کا والد اس کو اپنی تحویل میں لے سکتا ہے، جبکہ دوران پرورش بچی کے اخراجات باپ پر لازم ہوں گے۔
کما فی الشامیۃ: و لو استکتب من آخر کتابا بطلاقھا و قرأہ علی الزوج فاخذہ الزوج و ختمہ و عنونہ و بعث بہ الیھا فاتاھا وقع ان اقر الزوج انہ کتابہ اھ (246:3)۔
و فی الدر المختار: ثم ای بعد الام بان ماتت او لم تقبل او اسقطت حقھا او تزوجت باجنبی،ام الام (3/562)۔
و فی الھندیۃ: الکتابۃ علی نوعین مرسومۃ و نعنی بالمرسومۃ مایکتب الی غائب ثم المرسومۃ لایخلو اما ان ارسل الطلاق بان کتب اما بعد فانت طالق فکما کتب ھذا وقع الطلاق اھ (1/471)۔
و فیھا ایضاً: و ان کان الطلاق ثلاثا فی الحرۃ و ثنتین فی الامۃ لم تحل لہ حتی تنکح زوجا غیرہ نکاحا صحیحا و یدخل بہا ثم یطلقھا او یموت عنھا کذا فی الھندیۃ اھ (1/471) ۔
و فی الھندیۃ : نفقة الأولاد الصغار على الأب لا يشاركه فيها أحد كذا في الجوهرة النيرة (1/560)۔
و فیھا ایضاً : و اذا استغنی الغلام و بلغت الجاریۃ فالعصبۃ اولیٰ یقدم الاقرب فالاقرب اھ (1/566)۔
حنفی کا تین طلاق دینے کے بعد غیر مقلدین کے فتوی پر عمل کرنے پر اصرارکرنا
یونیکوڈ حلالہ اور طلاق مغلظہ 0