آنلائن ٹیچنگ کے متعلق ایک مسئلہ پوچھنا تھا اگر ایک شخص کو اسٹوڈنٹ مل جائے اور وہ اپنی مصروفیت کی بناء پر کسی اور کے حوالے کردے اس کے بدلے وہ ہر ماہ کچھ رقم وصول کرتا ہے یا ابتداء میں کچھ رقم وصول کرکے اسٹوڈنٹ ان کے حوالے کردے، کیا ان دو نوں صورتوں میں رقم وصول کرنا شرعاً جائز ہے؟ واضح رہے کہ ان کا کوئی باقاعدہ آنلائن پڑھانے کا ادارہ ہے اور نہ پہلے سے پڑھانے کے لئے بات ہوئی ہے۔
مذکور شخص اگر کمیشن پر اسٹوڈنٹ فراہم کرتا ہو اور اس کے لئے اس کو محنت مشقت بھی کرنی پڑتی ہو یا پہلے سے یہ معاملہ کمیشن پرطے کیا جائے تو ایسی صورت میں کسی دوسرے شخص کو اسٹوڈنٹ دے کر ابتداءً ایک مرتبہ اس دوسرے شخص سے اپنے اس عمل پر طے شدہ اجرت لینا تو شرعاً جائز ہے، جبکہ ہر ماہ اس اسٹوڈنٹ کی وجہ سے شخصِ مذکور سے فیس لینا درست نہیں، جس سے احتراز لازم ہے۔
کما فی شعب الایمان: عن سعيد بن عمير الأنصاري، قال: سئل رسول الله صلى الله عليه وسلم أي الكسب أطيب؟ قال: " عمل الرجل بيده، وكل بيع مبرور " (ج۲، ص۴۳۴، ط۔مکتبۃ الرشد)۔
وفی ردالمحتار: مطلب في أجرة الدلال: قال في التتارخانية: وفي الدلال والسمسار يجب أجر المثل، وما تواضعوا عليه أن في كل عشرة دنانير كذا فذاك حرام عليهم. وفي الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به الخ (ج۶، ص۶۳،کتاب الاجارۃ، ط۔سعید)۔
وفی الھندیۃ: وفي الدلال والسمسار يجب أجر المثل وما تواضعوا عليه أن من كل عشرة دنانير كذا فذلك حرام عليهم. كذا في الذخيرة.اھ (ج۴، ص۴۵۰، کتاب الاجارۃ، ط۔ماجدیہ)۔
وفی الموسوعۃ الفقھیۃ الکویتیۃ: إذا اشترطت الأجرة في الوكالة وأوفاها الوكيل استحق الأجرة، وإن لم تشترط ولم يكن الوكيل ممن يخدم بالأجرة كان متبرعا وليس له أن يطالب بالأجرة أما في الحالة الثانية وهي أن يكون الوكيل من أصحاب المهن الذين يعملون بالأجر لأن طبيعة مهمتهم تقتضي ذلك كالسمسار والدلال فيستحق الوكيل الأجرة حتى ولو لم يتفق عليها وقت التعاقد، وحينئذ يجب له أجر المثل اھ (ج۴۵، ص۹۱)۔
کمپنی کی طرف سےجہاز کے ٹکٹ کی مد میں ملنے والی رقم بچا کر ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ اجرت و کرایہ داری 0