السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ!ایک مسئلہ میں علماء کرام کے رہنما ئے درکار ہے،آج کل ہمارے یہاں ایک سوچ ترقی کرتی جارہی ہے، اور بہت سے قبرستان میں یہ طریقہ اختیار ہوگیاہے،قبرستان میں قبر کو صرف نمبر دیا جاتاہے،اور آخری نمبر پر پہنچنےکے بعد واپس پہلے نمبرپر شروع کیاجاتاہے، میں نے علماء سے سناہے،کہ خدا کی زمین وسیع ہے بلا ضرورت اس طرح نہیں کرنا چاہیئے،اب حال ہی میں انٹرنیٹ میں اس کا نتیجہ ایک سوال کے جواب میں دیکھا کسی سائل نے سوال کیا تھا ان کے جوان بیٹا کا انتقال ہوگیا اور چھ ماہ بعد ان کا بیٹا والدین کو خواب میں آتا رہا تو وہ قبرستان گئے تو پتہ چلا وہ قبر میں دوسرا کوئی دفن ہے،اب اس والدین کا کیا حال ہوگا،مختصر میرا سوال ہےکہ ہمارے برادری کےایک قبرستان ہے شہرسے باہر حب میں ہے، اور لوگوں سے چند ہ کر کے زمین خریدی ہے، 1967۔ 68 میں دفنانا شروع کیا ،اب آہستہ آہستہ قبرستان پورا ہونے لگا، مسئلہ یہ ہے کہ کچھ زبان عام اور خاص سے سننے میں آیا ہےکہ جگہ ختم ہو جائی گی ،تو اول والے سے شروع کرکے واپس دفنانے کا شروع کرینگے،حالانکہ برادرای اور زمین بھی خرید سکتی ہے،لیکن آج کل جدید سوچ ہے اور ایک حدیث کا حوالہ دیتے ہیں کہ قیامت کے دن ایک ایک قبرمیں سے 70 مردے نکلیں گی ، اور شاید انکو گنتی پوری کرنی ہے،اس قبرستان میں 1967 میں ہمارے ایک عزیز کو قبرنمبر 7 میں دفنا یا گیا ہے ہمارے یہاں نمبر کی ترتیب ہے اور قبر بھی بلکل شریعت کی مطابق ہے،ایک نام کی تختی ہے، اور مرحوم کے بچے پوتے نواسے قبر میں زیارت کے لیے جاتے ہے،اب ایسے قبر کو بلا وجہ ختم کرنا ضروری ہے؟ اور تشویش یہ ہو تی ہےکہ اب تو اکثر یت اور طاقت کا دورہے اور یہ مسئلہ صرف ایک برادری اور ایک جگہ کا نہیں ہے، آپ کی رہنمائی درکار ہے،ایک قبرمیں دوسرےکو دفن کرنے کی اجازت علماء جواز کے درجہ میں اجازت دیتے ہے،یہاں تو دوسری جگہ میں دوسری قبرستان میں دفن کرسکتے ہے، ابھی زمین اتنی تنگ نہیں ہے، دوسری بات پہلے والے صاحب قبر کے ہڈی وغیرہ گورکن کے رحم اور کرم پر ہوتی ہے،یہ لوگ شریعت کے حکم سے واقفیت نہیں رکھتے ہیں ۔
اگر پرانے قبرستان میں نئے مردوں کی تدفین کیلئے خالی جگہ میسر ہو، یاقرب و جوار میں تدفین کیلئے کوئی اور مناسب جگہ موجود ہو،تو بلا کسی عذر کے یا محض آبا ؤ اجداد کی قبریں ہونے کیوجہ سے پرانی قبروں کو اکھاڑ کر وہاں نئے مردے دفن کردینے سے اجتناب کرنا چاہیئے،البتہ اگر جگہ کی تنگی وغیرہ کسی عذر کیوجہ سے ایسا کیا جائے اور پرانی قبر میں موجود میت بوسیدہ ہوکر مٹی بن چکی ہو ،تو ایسی صورت میں پرانی قبر میں نئے مردے کودفن کرنا بھی درست ہے ، تاہم اگر مردے پراس قدر عرصہ نہ گزراہوکہ جسمیں اس کا جسم بوسیدہ ہوکر مٹی بن جائے اور کوئی ضرورت اور شرعی عذر بھی درپیش نہ ہو ،تو ایسی صورت میں پرانی قبروں میں نئے مردے دفن کرنا شرعاً جائز نہیں ، جس سے اجتناب لازم ہے ۔
کما فی رد المحتار : و إدخال البعض على البعض قبل البلى مع ما فيه من هتك حرمة الميت الأول ، و تفريق أجزائه، فالحذر من ذلك اه ـ: و قال الزيلعي : و لو بلي الميت و صار ترابا جاز دفن غيره في قبره و زرعه و البناء عليه اهـ. قال في الإمداد : و يخالفه ما في التتارخانية إذا صار الميت ترابا في القبر يكره دفن غيره في قبره لأن الحرمة باقية ، و إن جمعوا عظامه في ناحية ثم دفن غيره فيه تبركا بالجيران الصالحين ، و يوجد موضع فارغ يكره ذلك اهـ(233/2)۔
انتقال کے بعد میاں بیوی میں سے ایک کا دوسرے کو دیکھنا ،غسل دینا یا غسل دینے کی وصیت کرنا
یونیکوڈ مردہ اور میت 0بحالتِ مجبوری میاں بیوی میں سے کسی ایک کے فوت ہوجانے کی صورت میں دوسرے کو غسل دینا ، دیکھنا،چھونا
یونیکوڈ مردہ اور میت 0بیماری کی نمازوں کا فدیہ دینے-مردے کے گھر میں آگ جلانے-اور قبر پر کتبہ لگانے کا حکم
یونیکوڈ مردہ اور میت 0