میں کال سینٹر میں کام کرنا چاہتا ہوں , اور اس میں کام یہ ہو گا کہ باہر کے ممالک عموماً یورپ یا امریکا کے لوگوں کو کال کرکے ان کو سودی قرضہ دینے کی معلومات دی جاتی ہیں , اور اس کے ساتھ ساتھ اگر وہ کال کریں تو ان کے مسائل حل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے , اور جس بینک کے لئے یہ کام کیا جائے وہ کال سینٹر والوں کو تنخوا ہیں اور ہر نئے بندے کے نام پر کمیشن دیتا ہے , تو سوال یہ ہے کہ کیا اس طرح کے کال سینٹر میں اس طرح کا کام جائز ہے؟ یا مکمل طور پر نا جائز ہے ؟
واضح ہو کہ احادیثِ مبارکہ میں حضور ﷺ نے جس طرح سود کھانے والے شخص پر لعنت فرمائی ہے ، اسی طرح سودی معاملات میں تعاون کرنے والے شخص پر بھی لعنت فرمائی ہے، لہذا صورتِ مسؤلہ میں سائل کی ذمہ داری بھی سودی معاملات میں معاونت کی ہے ، اس لئے سائل کے لئے کال سینٹر میں مذکور ملازمت اختیار کرنا شرعاً جائز نہیں اور اس پر ملنے والی تنخواہ بھی حلال و طیب نہ ہوگی، لہذا اس سے اجتناب لازم ہے۔
کما فی مرقاة المفاتیح : عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : لَعَنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ أَكَلَ الرِّبَا وَ مُوَكِلَهُ وَ كَاتِبَهُ وَ شَاهِدَيْهِ وَ قَالَ : «هُمْ سَوَاءٌ» . رَوَاهُ مُسلم
قَالَ الْخَطَّابِيُّ : سَوَّى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ - بَيْنَ آكِلِ الرِّبَا وَ مُوكِلِهِ ، إِذْ كُلٌّ لَا يَتَوَصَّلُ إِلَى أَكْلِهِ إِلَّا بِمُعَاوَنَتِهِ وَ مُشَارَكَتِهِ إِيَّاهُ ، فَهُمَا شَرِيكَانِ فِي الْإِثْمِ كَمَا كَانَا شَرِيكَيْنِ فِي الْفِعْلِ ، قَالَ النَّوَوِيُّ : فِيهِ تَصْرِيحٌ بِتَحْرِيمِ كِتَابَةِ الْمُتَرَابِيَيْنِ وَ الشَّهَادَةِ عَلَيْهِمَا وَ بِتَحْرِيمِ الْإِعَانَةِ عَلَى الْبَاطِلِ اھ(6/51)۔
ائمہ مساجد کا میڈیا ذرائع کی بنیاد پر حکومت کے خلاف بیان دینا غیبت ہے یا تہمت؟-سرکاری ملازم کی چھٹیوں کے احکام
یونیکوڈ ملازمت 0محلہ والوں کا امام صاحب کے ساتھ کنٹریکٹ کرنا اور معاہدہ مکمل ہونے کے بعد اس کو بلا عذر نکالنے کا حکم
یونیکوڈ ملازمت 0تنخواہ کی رقم سے کچھ پیسے کاٹنا اور ملازمت ختم ہونے کے بعد پینشن کے طور پر لے کر استعمال کرنا
یونیکوڈ ملازمت 0