امام قرطبی نے اپنی تفسیر (جلد 5، صفحہ 209) میں حضرت عبداللہ بن رواحہؓ کا ایک واقعہ ذکر کیا ہے کہ انہوں نے اپنی اہلیہ سے ایک بات کہی اور ایسا محسوس ہوا جیسے وہ قرآن کی آیت ہو، حتیٰ کہ ان کی اہلیہ نے اسے قرآن سمجھ لیا۔ اگر قرآن اپنی فصاحت و بلاغت میں معجزانہ ہے اور انسانی کلام سے بالکل مختلف ہے، تو پھر وہ اتنی آسانی سے دھوکے میں کیسے آگئیں؟
امام قرطبیؒ نے جو واقعہ نقل کیا ہے، جس کاحوالہ سائل نے اپنے سوال میں دیاہے ،اس سے ہرگز یہ لازم نہیں آتا کہ حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کا کلام حقیقتاً قرآن کے مثل یا اس کے معجزانہ اسلوب کے برابر تھا، بلکہ اس واقعہ کا تعلق "توریہ" اور سامع کے ظاہری گمان سے ہے، چنانچہ اہلِ بلاغت نے تصریح کی ہے کہ"توریہ" میں انسان ایسا کلام بولتا ہے جس سے سننے والا ایک معنی سمجھے، حالانکہ متکلم کی مراد دوسرا معنی ہوتا ہے۔ اسی اصول کے تحت حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے بعض عربی اشعار پڑھے، اور ان کی اہلیہ چونکہ قرآن کی باقاعدہ قاریہ نہ تھیں، اس لیے انہوں نے گمان کیا کہ شاید یہ قرآن ہے۔
یہ قرآن کے اعجاز کا معارضہ نہیں بلکہ محض ایک عارضی اشتباہ تھا، کیونکہ قرآن کا معجزہ صرف چند فصیح جملوں کا نام نہیں، بلکہ اس کا مجموعی نظم، اسلوب، معانی، تاثیر، تشریع، غیب کی خبریں اور بے مثال بلاغت ایسی ہے کہ پوری عرب قوم اس کی مثل لانے سے عاجز رہی ہے، اسی لیے علامہ باقلانیؒ نے لکھا کہ قرآن کا اعجاز اہلِ زبان اور ماہرینِ فصاحت پر واضح ترین امر تھا، اور عرب کے بڑے بڑے خطباء اور بلغاء اس کے مقابلہ سے عاجز آگئے۔لہٰذا مذکورہ واقعہ قرآن کے معجزہ ہونے کے خلاف نہیں، بلکہ زیادہ سے زیادہ یہ ثابت کرتا ہے کہ کبھی کسی شخص کو عارضی طور پر کسی فصیح کلام کے بارے میں اشتباہ ہوسکتا ہے، خصوصاً جب وہ قرآن کی مکمل معرفت نہ رکھتا ہو۔
كما في أحكام القران للقرطبي: وعن ابن عباس، عن عبد الله بن رواحة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى أن يقرأ أحدنا القرآن وهو جنب، أخرجه الدارقطني. وروى عن عكرمة قال: كان ابن رواحة مضطجعا إلى جنب امرأته فقام إلى جارية له في ناحية الحجرة فوقع عليها، وفزعت امرأته فلم تجده في مضجعه، فقامت فخرجت فرأته على جاريته، فرجعت إلى البيت فأخذت الشفرة ثم خرجت، وفرغ فقام فلقيها تحمل الشفرة فقال مهيم «1»؟ قالت: مهيم! لو أدركتك حيث رأيتك لوجأت «2» بين كتفيك بهذه الشفرة. قال: وأين رأيتني؟ قالت: رأيتك على الجارية، فقال: ما رأيتني، وقد نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يقرأ أحدنا القرآن وهو جنب. قالت: فاقرأ، [وكانت «3» لا تقرأ القرآن، [فقال:
أتانا رسول الله يتلوا كتابه كما لاح مشهور من الفجر ساطع
أتى بالهدى بعد العمى فقلوبنا به موقنات أن ما قال واقع
يبيت يجافي جنبه عن فراشه، إذا استثقلت بالمشركين المضاجع
فقالت: آمنت بالله وكذبت البصر. ثم غدا على رسول الله صلى الله عليه وسلم فأخبره، فضحك حتى بدت نواجذه صلى الله عليه وسلم.(سورة النساء ، رقم الاية: ٤٣، ج: ٥، ص: ٢٠٩، مط: دار الكتب المصرية)
وفي موسوعة القرانية: التورية: وهى أن يتكلم المتكلم بلفظ مشترك بين معنيين قريب وبعيد، ويريد المعنى البعيد، ويوهم السامع أنه أراد القريب، ومثاله قوله تعالى: وَالنَّجْمُ وَالشَّجَرُ يَسْجُدانِ الرحمن: 6، أراد بالنجم: النبات الذى لا ساق له، والسامع يتوهم أن المراد الكوكب،(الباب السادس موضوعات القران الكريم، التورية، ج: ٣، ص: ٦١، مط: مؤسسة سجل العرب)
وفي اعجاز القران للباقلاني: أن إعجاز القرآن لا يخفى على العربي البليغ الذى قد تناهى في معرفة اللسان العربي، ووقف على طرقها ومذاهبها، ولا يشتبه على ذي بصيرة، ولا يخيل عند أخى معرفة.
وأما من لم يبلغ في الفصاحة الحد الذي يتناهى إلى معرفة أساليب الكلام، ووجوه تصرف اللغة، فهو كالأعجمي في أنه لا يمكنه أن يعرف إعجاز القرآن إلا بأن يعلم أن العرب قد عجزوا عنه، وإذا عجز هؤلاء عنه فهو عنه أعجز.
ثم نقل الباقلانى نصوصا من خطب النبي وكتبه، وكلام أبى بكر وعمر وعثمان وعلى وابن عباس وعبد الله بن مسعود ومعاوية وعمر بن عبد العزيز والحجاج وقس ابن ساعدة وأبى طالب.(فصل في كيفية الوقوف على إعجاز القرآن، ص:٧٨، مط: دار المعارف)
آیت تطہیر کن مبارک ہستیوں کے بارے میں نازل ہوئی؟ اور اہل بیت میں شامل افراد
یونیکوڈ آیات کی تفسیر و تشریح 0سورۃ مائدہ کی آیت نمبر ۴۴ اور ۶۳ میں ’’احبار‘‘ اور ربانییون‘‘ سے کیا مراد ہے؟
یونیکوڈ آیات کی تفسیر و تشریح 0ولی کی اجازت کے بغیر نکاح سے متعلق آیت قرآنی اور حدیث میں تعارض کا دفعیہ
یونیکوڈ آیات کی تفسیر و تشریح 0ہفتہ کے دن شکار سے مطلق علیحدہ رہنے والی تیسری جماعت کے ساتھ کیا معاملہ ہوا؟
یونیکوڈ آیات کی تفسیر و تشریح 0’’قوّامون‘‘ کا ترجمہ ’’حاکم‘‘ سے کرنا -اسلام میں مرد و عورت کی برابری کا تصور
یونیکوڈ آیات کی تفسیر و تشریح 0ہاروت و ماورت نامی فرشتوں کو اللہ نے مخصوص کام کیلئے زمین پر مبعوث فرمایا
یونیکوڈ آیات کی تفسیر و تشریح 0’’الولد للفراش‘‘ اور ’’وَجَعَلْنا مِنَ الْماءِ کلَّ شَیءٍ حَیّ‘‘ میں ظاہری تعارض اور اس کا دفعیہ
یونیکوڈ آیات کی تفسیر و تشریح 0